🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

340. مَنِ الْتَمَسَ رِضَا اللَّهِ بِسَخَطِ النَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَرْضَى عَنْهُ النَّاسَ، وَمَنِ الْتَمَسَ رِضَا النَّاسِ بِسَخَطِ اللَّهِ سَخِطَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَسْخَطَ عَلَيْهِ النَّاسَ
جس شخص نے لوگوں کو ناراض کر کے اللہ کی رضا چاہی اللہ اس سے راضی ہوگا اور لوگوں کو بھی اس سے راضی کر دے گااور جس نے اللہ کو ناراض کر کے لوگوں کی رضا چاہی اللہ اس پر ناراض ہوگا اور لوگوں کو بھی اس سے ناراض کر دے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 499
499 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ الْتَمَسَ رِضَا اللَّهِ بِسَخَطِ النَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَرْضَى عَنْهُ النَّاسَ، وَمَنِ الْتَمَسَ رِضَا النَّاسِ بِسَخَطِ اللَّهِ سَخِطَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَسْخَطَ عَلَيْهِ النَّاسَ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے لوگوں کو ناراض کر کے اللہ کی رضا چاہی اللہ اس سے راضی ہوگا اور لوگوں کو بھی اس سے راضی کر دے گا اور جس نے اللہ کو ناراض کر کے لوگوں کی رضا چاہی اللہ اس پر ناراض ہوگا اور لوگوں کو بھی اس سے ناراض کر دے گا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 499]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن حبان: 276، تاريخ دمشق: 20/54» عبد الرحمن بن محمد محاربی مدلس عنعنہ ہے۔

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 500
500 - أَخْبَرَنَا قَاضِي الْقُضَاةِ أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْعَوَّامِ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّينَوَرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الضَّبِّيُّ السَّمَّانُ، قَالَ: ثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ الْتَمَسَ رِضَا اللَّهِ بِسَخَطِ النَّاسِ أَرْضَاهُ اللَّهُ وَأَرْضَى عَنْهُ النَّاسَ، وَمَنِ الْتَمَسَ رِضَا النَّاسِ بِسَخَطِ اللَّهِ سَخِطَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَسْخَطَ عَلَيْهِ النَّاسُ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے لوگوں کو ناراض کر کے اللہ کی رضا چاہی اللہ اس سے راضی ہوگا اور لوگوں کو بھی اس سے راضی کر دے گا اور جس نے اللہ کو ناراض کر کے لوگوں کی رضا چاہی اللہ اس پر ناراض ہوگا اور لوگوں کو بھی اس سے ناراض کر دے گا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 500]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن حبان: 276، تاريخ دمشق: 20/54» عبد الرحمن بن محمد محاربی مدلس عنعنہ ہے۔

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 501
501 - أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْجَوَالِيقِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي حُصَيْنٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزْجَانِيُّ، نا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَرْضَى اللَّهَ بِسَخَطِ النَّاسِ كَفَاهُ النَّاسَ، وَمَنْ أَسْخَطَ اللَّهَ بِرِضَا النَّاسِ وَكَلَهُ اللَّهُ إِلَى النَّاسِ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے لوگوں کو ناراض کر کے اللہ کو راضی کیا اللہ اسے کافی ہوگا اور جس نے لوگوں کو راضی کر کے اللہ کو ناراض کیا اللہ اسے لوگوں کے سپرد کر دے گا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 501]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن حبان: 277، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2414، والحميدي فى «مسنده» برقم: 268، الزهد ل أحمد: 910»
وضاحت: تشریح: -
مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ ٰ کی خفگی و ناراضی سے بے پروا ہو کر لوگوں ہی کی رضا اور خوشنودی کو ترجیح دینے لگے تو پھر اللہ تعالیٰ ٰ بھی اس بندے سے بے پروا ہو جاتا ہے اور اس کے امور کو لوگوں کے حوالے کر دیتا ہے۔ یہی نہیں کہ اس کے ان امور میں اس کی مدد نہیں کرتا اور دوسروں کے شر وفتنہ سے اس کو محفوظ نہیں رکھتا بلکہ لوگوں کو اس پر مسلط کر دیتا ہے جو اس کو ایذا پہنچاتے ہیں اور اس پر ظلم و ستم کرتے ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ بندوں کے حق میں اصل چیز رضائے الہی ہے اگر رب راضی ہے تو جنگ راضی ہے اور اگر رضائے الہی پر نظر نہ ہو لوگوں کی طرف دیکھے، تو پھر نہ رب راضی اور نہ جگ راضی۔

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں