🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

443. تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً
سحری کیا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 676
676 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارَ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً» رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ يَرْفَعُهُ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سحری کیا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ اسے امام مسلم نے بھی اپنی سند کے ساتھ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مرفوع بیان کیا ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 676]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه النسائي: 2146، وابن خزيمة: 1936، والمعجم الكبير: 100235»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 677
677 - وأنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ خَلَفِ بْنُ يَعْقُوبَ الْوَاسِطِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ كَيْسَانَ النَّحْوِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، نا عَارِمٌ وَأَبُو الرَّبِيعِ وَمُسَدَّدٌ، قَالُوا: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سحری کیا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 677]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1923، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1095، والنسائي: 2148، والترمذي فى «جامعه» برقم: 708، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1738، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1692، والطبراني فى «الصغير» برقم: 60، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1937، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3466، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12131»
وضاحت: تشریح: -
ان احادیث میں سحری کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اہل علم کا کہنا ہے کہ سحری کرنے کا یہ حکم مستحب اور راہنمائی کے لیے ہے۔ فرض اور واجب نہیں کہ نہ کرنے والا گناہ گار شمار ہو کیونکہ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال کے بھی روزے رکھے ہیں اور وصال کے روزے ہوتے ہی وہ ہیں جن میں سحری نہیں کی جاتی لہٰذا مذکورہ حکم بہتری اور استحباب کے لیے ہے نہ کہ فرضیت کے لیے۔ بہر صورت سحری کی ترغیب بہت ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں میں سحری کرنے کا فرق ہے۔ [مسلم: 1099]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی ارشاد ہے کہ بے شک سحری میں برکت ہے جو اللہ نے تمہیں عطا فرمائی ہے لہٰذا تم (بلاوجہ) اسے مت چھوڑو۔ [نسائي: 2164، وسنده صحيح]
ایک حدیث میں ہے: سحری کا کھانا کھایا کرو کیونکہ یہ با برکت ہے۔ [ايضاً: 2166 وسند ه صحيح]
سحری کے کھانے کو بابرکت اس لیے کہا: گیا ہے کہ:
① اس وقت کھائے جانے والے کھانے میں اللہ کی طرف سے ایک خاص برکت ہوتی ہے۔
② اس سے روزے کی تکمیل میں آسانی ہو جاتی ہے۔ ③ روزے دار کو اتنی قوت مل جاتی ہے کہ وہ دیگر عبادات میں چستی دکھا سکے۔ ④ سحری کا وقت نہایت موزوں ہے، سحری کے بہانے اٹھنے سے ان بابرکت لمحات سے دعا واستغفار کے سلسلے میں بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ⑤ نماز فجر با جماعت مل جاتی ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں