🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

499. أَنْفِقْ يَا بِلَالُ، وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا
اے بلال! تم خرچ کرو اور عرش والے سے کمی کا خوف نہ کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 749
749 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْمُعَدِّلُ الصَّفَّارُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا قَيْسٌ يَعْنِي ابْنَ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بِلَالٍ وَعِنْدَهُ صَبْرٌ مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ:" مَا هَذَا يَا بِلَالُ؟، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَكَ وَلِضِيفَانِكَ، قَالَ: «أَمَا تَخْشَى أَنْ يَفُورَ لَهَا رِيحٌ مِنْ جَهَنَّمَ، أَنْفِقْ يَا بِلَالُ وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا»
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، ان کے پاس کھجوروں کا ڈھیر پڑا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ آپ کے اور آپ کے مہمانوں کے لیے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم ڈرتے نہیں ہو کہ کہیں یہ تمہارے لیے جہنم کی آگ کا دھواں نہ بن جائے؟ بلال! تم (اسے) خرچ کرو اور عرش والے سے کمی کا خوف نہ کرو۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 749]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه المعجم الكبير: 1020، وبزار: 1978» قیس بن ربیع ضعیف ہے۔

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 750
750 - وأنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، نا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، نا ابْنُ الْمُنَادِي، نا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، نا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا بِلَالُ أَطْعَمْنَا» ، فَأَتَى بِقَبْضٍ مِنْ تَمْرٍ، فَقَالَ: «زِدْنَا» ، فَزَادَهُ ثُمَّ قَالَ: «زِدْنَا» ، فَقَالَ: لَيْسَ شَيْءٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا شَيْئًا ادَّخَرْتُهُ لَكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْفِقْ يَا بِلَالُ وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا»
مسروق سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! ہمیں کھانا کھلاؤ۔“ تو وہ ایک مٹھی کھجوروں کی لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیں مزید دو۔“ تو انہوں نے آپ کو مزید (کھجوریں) دیں۔ آپ نے فرمایا: ”ہمیں اور دو۔“ تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کے سوا اور کچھ نہیں، یہ بھی میں نے آپ کے لیے جمع کر رکھی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! خرچ کرو اور عرش والے سے کمی کا خوف نہ کرو۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 750]
تخریج الحدیث: مرسل ضعیف، اسے مسروق تابعی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، ابواسحاق مدلس کا عنعنہ ہے اس میں اور بھی علتیں ہیں۔

الحكم على الحديث:
مرسل ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں