مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
580. لَا يَشْبَعُ الْمُؤْمِنُ دُونَ جَارِهِ
مومن اپنے پڑوسی کو (بھوکا) چھوڑ کر شکم سیر نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 895
895 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعْدُونٍ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا أَبُو الطَّيِّبِ عُثْمَانُ بْنُ الْمُنْتَابِ، أبنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ، أبنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: أبنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أبنا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، قَالَ: بَلَغَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنَّ سَعْدًا، اتَّخَذَ قَصْرًا، فَأَنْفَذَ إِلَيْهِ: إِنَّمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَشْبَعُ الْمُؤْمِنُ دُونَ جَارِهِ»
عبایہ بن رفاعہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ملی کہ سعد رضی اللہ عنہ نے ایک محل بنا لیا ہے تو انہوں نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”مومن اپنے پڑوسی کو (بھوکا) چھوڑ کر شکم سیر نہیں ہوتا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 895]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الزهد لابن المبارك: 513، أحمد: 1/ 55»
عبایہ بن رفاعه نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا، اس میں ایک اور علت بھی ہے۔
عبایہ بن رفاعه نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا، اس میں ایک اور علت بھی ہے۔
حدیث نمبر: 896
896 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، أنا زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ، أنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، قَالَ: بَلَغَ عُمَرَ أَنَّ سَعْدًا، اتَّخَذَ قَصْرًا فَأَنْفَذَ إِلَيْهِ: أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ::.. وَذَكَرَهُ
عبایہ بن رفاعہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ملی کہ سعد رضی اللہ عنہ نے ایک محل بنا لیا ہے تو انہوں نے ان کی طرف پیغام بھیجا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہیں سنا؟ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔ [مسند الشهاب/حدیث: 896]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الزهد لابن المبارك: 513، أحمد: 1/ 55»
عبایہ بن رفاعه نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا، اس میں ایک اور علت بھی ہے۔
عبایہ بن رفاعه نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا، اس میں ایک اور علت بھی ہے۔