صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. بَابُ مَنْ لَمْ يَرَ الرُّؤْيَا لأَوَّلِ عَابِرٍ إِذَا لَمْ يُصِبْ:
باب: اگر پہلی تعبیر دینے والا غلط تعبیر دے تو اس کی تعبیر سے کچھ نہ ہو گا۔
حدیث نمبر: 7046
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، كَانَ يُحَدِّثُ" أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطُفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ، فَأَرَى النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهَا، فَالْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ، وَإِذَا سَبَبٌ وَاصِلٌ مِنَ الْأَرْضِ إِلَى السَّمَاءِ، فَأَرَاكَ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا بِهِ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا بِهِ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ ثُمَّ وُصِلَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَاللَّهِ لَتَدَعَنِّي فَأَعْبُرَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اعْبُرْهَا، قَالَ: أَمَّا الظُّلَّةُ فَالْإِسْلَامُ، وَأَمَّا الَّذِي يَنْطُفُ مِنَ الْعَسَلِ وَالسَّمْنِ فَالْقُرْآنُ، حَلَاوَتُهُ تَنْطُفُ، فَالْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ، وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ فَالْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ، تَأْخُذُ بِهِ فَيُعْلِيكَ اللَّهُ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُهُ رَجُلٌ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ بِهِ، ثُمَّ يُوَصَّلُ لَهُ فَيَعْلُو بِهِ، فَأَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ، أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ؟، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا، قَالَ: فَوَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُحَدِّثَنِّي بِالَّذِي أَخْطَأْتُ، قَالَ: لَا تُقْسِمْ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک ابر کا ٹکڑا ہے جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے میں دیکھتا ہوں کہ لوگ انہیں اپنے ہاتھوں میں لے رہے ہیں۔ کوئی زیادہ اور کوئی کم اور ایک رسی ہے جو زمین سے آسمان تک لٹکی ہوئی ہے۔ میں نے دیکھا کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر اسے پکڑ اور اوپر چڑھ گئے پھر ایک دوسرے صاحب نے بھی اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چڑھ گئے پھر ایک تیسرے صاحب نے پکڑا اور وہ بھی چڑھ گئے پھر چوتھے صاحب نے پکڑا اور وہ بھی اس کے ذریعہ چڑھ گئے۔ پھر وہ رسی ٹوٹ گئی، پھر جڑ گئی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ مجھے اجازت دیجئیے میں اس کی تعبیر بیان کر دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیان کرو۔ انہوں نے کہا سایہ سے مراد دین اسلام ہے اور شہد اور گھی ٹپک رہا تھا وہ قرآن مجید کی شیرینی ہے اور بعض قرآن کو زیادہ حاصل کرنے والے ہیں، بعض کم اور آسمان سے زمین تک کی رسی سے مراد وہ سچا طریق ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قائم ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑے ہوئے ہیں یہاں تک کہ اس کے ذریعہ اللہ آپ کو اٹھا لے گا پھر آپ کے بعد ایک دوسرے صاحب آپ کے خلیفہ اول اسے پکڑیں گے وہ بھی مرتے دم تک اس پر قائم رہیں گے۔ پھر تیسرے صاحب پکڑیں گے ان کا بھی یہی حال ہو گا۔ پھر چوتھے صاحب پکڑیں گے تو ان کا معاملہ خلافت کا کٹ جائے گا وہ بھی اوپر چڑھ جائیں گے۔ یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں مجھے بتائیے کیا میں نے جو تعبیر دی ہے وہ غلط ہے یا صحیح۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض حصہ کی صحیح تعبیر دی ہے اور بعض کی غلط۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: پس واللہ! آپ میری غلطی کو ظاہر فرما دیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم نہ کھاؤ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّعْبِيرِ/حدیث: 7046]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: ”میں نے آج رات خواب میں دیکھا ہے کہ بادل کے ایک ٹکڑے سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے۔ میں لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے ہاتھوں میں لے رہے ہیں، کچھ زیادہ اور کچھ کم۔ پھر اچانک ایک رسی دیکھی جو آسمان سے زمین کی طرف لٹک رہی ہے۔ میں نے آپ کو دیکھا آپ نے اس رسی کو پکڑا اور اوپر چڑھ گئے۔ پھر ایک اور صاحب آئے انہوں نے بھی رسی کو پکڑا، پھر ایک اور صاحب آئے انہوں نے بھی رسی کو پکڑا تو رسی ٹوٹ گئی اور پھر جڑ گئی۔“ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے اجازت دیں میں اس کی تعبیر کروں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، آپ اس کی تعبیر کریں۔“ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: ”بادل سے مراد دینِ اسلام ہے۔ جو گھی اور شہد ٹپک رہا تھا وہ قرآن کریم کی حلاوت اور مٹھاس ہے، کچھ لوگ اسے زیادہ لینے والے ہیں اور کچھ لوگوں کی قسمت میں تھوڑا حصہ ہے اور آسمان سے زمین تک لٹکنے والی رسی سے مراد وہ سچا طریقِ حق ہے جس پر آپ گامزن ہیں اور آپ اسے پکڑے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ رسی کے ساتھ آپ کو بامِ عروج تک لے جائے گا۔ پھر آپ کے بعد اسے ایک اور آدمی پکڑے گا۔ پھر اس کے بعد دوسرا آدمی پکڑے گا، پھر جب اسے تیسرا آدمی پکڑے گا تو رسی ٹوٹ جائے گی، پھر جڑ جائے گی تو وہ بھی چڑھ جائے گا۔ اللہ کے رسول! میرے ماں باپ پر قربان ہوں، مجھے اس تعبیر کے متعلق بتائیں صحیح ہے یا غلط ہے؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ تعبیر تو صحیح ہے اور کچھ غلط ہے۔“ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”(اللہ کے رسول!) آپ کو اللہ کی قسم ہے آپ میری غلطی کو ضرور ظاہر کریں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم قسم نہ دو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّعْبِيرِ/حدیث: 7046]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة