🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

656. إِنَّ أَفْضَلَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ
بے شک افضل چیز جو انسان کھاتا ہے وہی ہے جو اس کی اپنی کمائی میں سے ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1012
1012 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْمُعَدِّلُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدِ الْقَاسِمِ بْنِ سَلَّامٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَفْضَلَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِهِ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک افضل چیز جو انسان کھاتا ہے وہی ہے جو اس کی اپنی کمائی میں سے ہو اور اس کی اولاد بھی اس کی اپنی کمائی ہی ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1012]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4259، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2307، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3528، 3529، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1358، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2579، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2137، 2290، و النسائي: 4454، والحميدي فى «مسنده» برقم: 248، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24666»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1013
1013 - وَحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، نا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ
یہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی علی بن عبد العزیز سے ان کی سند کے ساتھ اسی طرح مروی ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1013]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4259، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2307، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3528، 3529، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1358، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2579، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2137، 2290، و النسائي: 4454، والحميدي فى «مسنده» برقم: 248، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24666»
وضاحت: تشریح: -
اس حدیث مبارک سے دو باتیں معلوم ہوئیں:
① انسان کا بہترین کھانا وہی ہے جو وہ اپنی حلال کمائی میں سے کھاتا ہے، محنت سے حاصل ہونے والی کمائی حلال ہے بشرطیکہ اس میں شرعی احکام کو ملحوظ رکھا گیا ہو۔
② انسان کی اولا د بھی اس کی اپنی کمائی ہے کیونکہ اولاد کو اس نے بڑی محنت و مشقت سے پال پوس کر جوان کیا، لہٰذا اولاد کی کمائی میں سے ان کی اجازت کے بغیر بھی والدین کو تصرف کا حق حاصل ہے۔

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں