مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
712. إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ بِقَوْمٍ خَيْرًا ابْتَلَاهُمْ
بے شک الله عز وجل جب کسی قوم کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا سے تو انہیں آزمائش میں ڈال دیتا ہے
حدیث نمبر: 1120
1120 - حَدَّثَنَا أَبُو ذَرٍّ عَبْدُ بْنُ أَحْمَدَ الْهَرَوِيُّ، إِجَازَةً، أبنا أَبُو الْحَسَنِ، عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَهْدِيٍّ الدَّارَقُطْنِيُّ فِي كِتَابِ الْعِلَلِ قَالَ: رَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِنَانِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَرَادَ بِقَوْمٍ خَيْرًا ابْتَلَاهُمْ»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ عز و جل جب کسی قوم کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو انہیں آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1120]
تخریج الحدیث: «منقطع، وأخرجه العلل للدار قطني: 2467»
امام دارقطنی رحمہ اللہ اور حماد بن سلمہ کے درمیان انقطاع ہے۔
امام دارقطنی رحمہ اللہ اور حماد بن سلمہ کے درمیان انقطاع ہے۔
الحكم على الحديث:
منقطع
حدیث نمبر: 1121
1121 - أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو إِبْرَاهِيمَ أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ الْمَيْمُونِ بْنِ حَمْزَةَ الْحُسَيْنِيُّ، أبنا جَدِّي الْمَيْمُونُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ الْعَسَّالُ، ثنا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ عِظَمَ الْجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَاءِ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ، فَمَنْ رَضِيَ فَلَهُ الرِّضَا، وَمَنْ سَخَطَ فَلَهُ السَّخَطُ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک بڑا ثواب بڑی آزمائش کے ساتھ ہے اور بے شک اللہ عز و جل جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو انہیں آزمائش میں ڈال دیتا ہے پھر جو (آزمائش پر) راضی رہا تو اس کے لیے خوشنودی ہے اور جو ناراض ہوا اس کے لیے ناراضی ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1121]
تخریج الحدیث: «منكر، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2350، 2351، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8897، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2396، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4031، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 4222»
یزید بن ابی حبیب کی سعد بن سنان سے روایت منکر ہوتی ہے۔
یزید بن ابی حبیب کی سعد بن سنان سے روایت منکر ہوتی ہے۔
وضاحت: فائدہ: -
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ جس مسلمان کو بھی جسمانی تکلیف میں مبتلا فرماتا ہے تو جب تک وہ بیمار رہے اس کے لیے ان اعمال کا ثواب لکھا جاتا ہے جو وہ حالت صحت میں کرتا تھا پھر اگر اللہ اسے عافیت دے دے تو میرا (یعنی راوی حدیث کا) خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے (گناہوں سے) دھو دیتا ہے اور اگر فوت کر دے تو بخش دیتا ہے۔“ (الادب المفرد: 501، وسندہ حسن)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ جس مسلمان کو بھی جسمانی تکلیف میں مبتلا فرماتا ہے تو جب تک وہ بیمار رہے اس کے لیے ان اعمال کا ثواب لکھا جاتا ہے جو وہ حالت صحت میں کرتا تھا پھر اگر اللہ اسے عافیت دے دے تو میرا (یعنی راوی حدیث کا) خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے (گناہوں سے) دھو دیتا ہے اور اگر فوت کر دے تو بخش دیتا ہے۔“ (الادب المفرد: 501، وسندہ حسن)
الحكم على الحديث:
منكر