مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
910. اللَّهُمَّ بِكَ انْتَشَرْتُ، وَإِلَيْكَ تَوَجَّهْتُ، وَبِكَ اعْتَصَمْتُ
اے اللہ! میں تیری توفیق سے اٹھا، تیری طرف متوجہ ہوا اور تجھی کو مضبوطی سے تھاما
حدیث نمبر: 1497
1497 - أنا أَبُو الْحَسَنِ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْجَوَالِيقِيُّ أنا أَبُو الْقَاسِمِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي حُصَيْنٍ الْهَمْدَانِيُّ، نا أَبُو جَعْفَرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ، نا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقُرَشِيُّ الْهُبَارِيُّ، نا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسَاوِرٍ الْعِجْلِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمْ يَرِدْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفَرًا إِلَّا قَالَ حِينَ يَنْهَضُ مِنْ جُلُوسِهِ: «اللَّهُمَّ بِكَ انْتَشَرْتُ، وَإِلَيْكَ تَوَجَّهْتُ، وَبِكَ اعْتَصَمْتُ، أَنْتَ ثِقَتِي، وَأَنْتَ رَجَائِي، اللَّهُمَّ اكْفِنِي مَا هَمَّنِي، وَمَا لَمْ أَهْتَمَّ بِهِ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ زَوِّدْنِي التَّقْوَى، وَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَوَجِّهْنِي لِلْخَيْرِ أَيْنَمَا تَوَجَّهْتُ» ، قَالَ ثُمَّ يَخْرُجُ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے یہ کلمات ضرور پڑھتے: ”اے اللہ! میں تیری توفیق سے اٹھا، تیری طرف متوجہ ہوا اور تجھی کو مضبوطی سے تھاما۔ تو میرا بھروسا ہے اور تو ہی میری امید ہے۔ اے اللہ! میرے اہم اور غیر اہم کاموں میں مجھے کافی ہو جا، اور ان میں بھی جن کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ اے اللہ! مجھے تقویٰ کا توشہ عطا فرما، اور میرے گناہ بخش دے اور میں جہاں کہیں بھی منہ کروں مجھے خیر کی طرف متوجہ کر۔“ راوی کہتا ہے کہ پھر آپ (یہ کلمات پڑھ کر) سفر کے لیے روانہ ہوتے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1497]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابويعلي: 2770، تهذيب الآثار: 167مسند على، الدعاء للطبراني: 805»
عمر بن مساور عجلی ضعیف ہے، اس میں ایک اور علت بھی ہے۔
عمر بن مساور عجلی ضعیف ہے، اس میں ایک اور علت بھی ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف