🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ ذِكْرِ فَضَائِلِ الْوُضُوءِ يَكُونُ بَعْدَهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ
اس وضو کے فضائل کا بیان جس کے بعد فرض نماز ادا کی جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ ، أَنَّهُ أَخْبَرَ، قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ دَعَا بِوَضُوءٍ، فَتَوَضَّأَ عَلَى الْبَلاطِ، فَقَالَ: أُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ وَصَلَّى، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلاةِ الأُخْرَى" . هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ
حمران بن ابان رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کے لیے پانی منگوایا اور بلاط (پتھریلی زمین) پر وضو کیا۔ پھر فرمایا، میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث سناتا ہوں۔ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جس شخص نے بہترین وضو کیا اور نماز ادا کی تو اس کے اس نماز اور دوسری نماز کے درمیان ہونے والے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/كِتَابُ: الْوُضُوءِ/حدیث: 2]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 159، 160، 164، 1934، 6433، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 226، وابن الجارود فى "المنتقى"، 74، 79، 80، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2، 3، 151، 152، 158، 167، 1489، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 360، 1041، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 529، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 84، وأبو داود فى (سننه) برقم: 106، والترمذي فى (جامعه) برقم: 31، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 285، 285 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 214، والدارقطني فى (سننه) برقم: 271، وأحمد فى (مسنده) برقم: 407»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں