🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

98. ‏(‏98‏)‏ بَابُ إِبَاحَةِ الْوُضُوءِ مِنَ الْجِفَانِ وَالْقِصَاعِ
ٹب اور بڑے پیالوں سے وضو کرنا جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 127
نا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، نا ابْنُ عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَبَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ " فَبَالَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ وَأَطْلَقَ شِنَاقَ الْقِرْبَةِ، فَصَبَّ فِي الْقَصْعَةِ أَوِ الْجَفْنَةِ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ، وَقَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ، فَجِئْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاک میں رہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو کیسے نماز پڑھتے ہیں۔ لہذا (رات کو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا، پھر اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کچھ دیر آرام کرنے کے بعد) اُٹھے اور مشکیزے کی رسی کھولی، اور بڑے پیالے یا ٹب میں پانی اُنڈیلا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو وضوں کے درمیان وضو کیا (نہ بہت اعلیٰ نہ بہت ہلکا) اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنا شروع کر دی، تو میں اُٹھا اور میں نے بھی وضو کیا، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب آکر (کھڑا ہوگیا) توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نےمجھے (کان سے) پکڑ کراپنی دائیں جانب کھڑا کرلیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ الْأَوَانِي اللَّوَاتِي يُتَوَضَّأُ فِيهِنَّ أَوْ يُغْتَسَلُ/حدیث: 127]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 117، 138، 183، 697، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 256،، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 127، 448، 449، 884، 1093، 1094، 1103، 1119، 1121، 1524، 1533، 1534، 1675، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1445، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6335، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 441، وأبو داود فى (سننه) برقم: 58، 610، والترمذي فى (جامعه) برقم: 232، 3419، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 423، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 315، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1868»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں