صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
126. ( 125) بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَرْكِ غَسْلِ الْعَقِبَيْنِ فِي الْوُضُوءِ،
وضو میں ایڑیوں کے نہ دھونے پر وعید کا بیان
حدیث نمبر: Q161
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الْفَرْضَ غَسْلُ الْقَدَمَيْنِ لَا مَسْحُهُمَا، إِذَا كَانَتْا بَادِيَتَيْنِ غَيْرَ مُغَطَّيَتَيْنِ بِالْخُفِّ أَوْ مَا يَقُومُ مَقَامَ الْخُفِّ، لَا عَلَى مَا زَعَمَتِ الرَّوَافِضُ أَنَّ الْفَرْضَ مَسْحُ الْقَدَمَيْنِ لَا غَسْلُهُمَا، إِذْ لَوْ كَانَ الْمَاسِحُ عَلَى الْقَدَمَيْنِ مُؤَدِّيًا لِلْفَرْضِ، لَمَا جَازَ أَنْ يُقَالَ لِتَارِكِ فَضِيلَةٍ: وَيْلٌ لَهُ، وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ "، إِذَا تَرَكَ الْمُتَوَضِّئُ غَسْلَ عَقِبَيْهِ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ دونوں قدم جب ننگے ہوں اور موزوں یا جُرابوں وغیرہ سے ڈھکے ہوئے نہ ہوں تو اُنہیں دھونا فرض ہے نہ کہ اُن کا مسح کرنا، رافضیوں کے قول کے برعکس جو یہ کہتے ہیں کہ قدموں کا مسح کرنا فرض ہے، دھونا فرض نہیں، کیونکہ اگر قدموں پرمسح کرنے والا شخص فرض کی ادائیگی کرنے والا ہوتا ہے تو افضلیت کے تارک شخص کو تباہی و بربادی یا جہنّم کی وعید سنانا جائز نہ ہوتا حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔“ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس وقت فرمایا تھا جب وضو کرنے والوں نے ایڑیاں اچھی طرح نہ دھوئی تھیں۔) [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْوُضُوءِ وَسُنَنِهِ/حدیث: Q161]
حدیث نمبر: 161
نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: رَجَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَاءٍ بِالطَّرِيقِ، تَعَجَّلَ قَوْمٌ عِنْدَ الْعَصْرِ، فَتَوَضَّئُوا وَهُمْ عِجَالٌ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ وَأَعْقَابُهُمْ بِيضٌ تَلُوحُ، لَمْ يَمَسَّهَا الْمَاءُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ، أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ"
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکّہ مکرمہ سے مدینہ منوّرہ واپس آئے، حتیٰ کہ جب ہم راستے میں پانی (کے ایک مقام یا چشمے وغیرہ) پر تھے تو لوگوں نے عصر کے وقت وضو کرتے ہوئے جلدی کی اور وہ جلدی میں تھے۔ ہم اُن کے پاس پہنچے تو اُن کی ایڑیاں سفید خشک دکھائی دے رہی تھیں۔ اُنہیں پانی نہیں لگا تھا، تو رسول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے، مکمّل وضو کرو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْوُضُوءِ وَسُنَنِهِ/حدیث: 161]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 60، 96، 163، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 241، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 161، 166، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1055، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 111، وأبو داود فى (سننه) برقم: 97، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 450، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 320، 321، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6639»
حدیث نمبر: 162
نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ ، كِلاهُمَا، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ"
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(خشک رہ جانے والی) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْوُضُوءِ وَسُنَنِهِ/حدیث: 162]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 165، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 242، وابن الجارود فى "المنتقى"، 86، 87، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 162، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1088، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 110، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 113، والترمذي فى (جامعه) برقم: 41، والدارمي فى (مسنده) برقم: 734، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 453، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 322، 323، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7243»