صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
141. (140) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِالْبَدْءِ بِالْميَامِنِ فِي الْوُضُوءِ أَمْرُ اسْتِحْبَابٍ وَاخْتِيَارٍ، لَا أَمْرُ فَرْضٍ وَإِيجَابٍ.
اس بات کی دلیل کا بیان کہ وضو میں دائیں طرف سے شروع کرنے کا حکم استحبابی اور اختیاری ہے، فرضی یا وجوبی حکم نہیں ہے
حدیث نمبر: 179
نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، نا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، نا شُعْبَةُ ، قَالَ الأَشْعَثُ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يُحَدِّثُ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُحِبُّ التَّيَامُنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي طُهُورِهِ وَنَعْلِهِ وَتَرَجُّلِهِ" ، قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ سَمِعْتُ الأَشْعَثَ بِوَاسِطَ، يَقُولُ:" يُحِبُّ التَّيَامُنَ ذَكَرَ شَأْنَهُ كُلَّهُ"، قَالَ: ثُمَّ سَمِعْتُهُ بِالْكُوفَةِ، يَقُولُ:" يُحِبُّ التَّيَامُنَ مَا اسْتَطَاعَ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسب طاقت، وضو کرنے، جوتا پہننے اور کنگھی کرنے میں دائیں طرف (سے ابتدا کرنے) کو پسند فرماتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے اشعت کو واسط میں بیان کرتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام کاموں میں دائیں جانب (سے ابتدا) کو پسند کرتے تھے۔ پھر میں نےاُنہیں کوفہ میں کہتےہوسنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حسب طاقت دائیں طرف کو پسند کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْوُضُوءِ وَسُنَنِهِ/حدیث: 179]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 168، 426، 5380، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 268، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 179، 244، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1091، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 112، والترمذي فى (جامعه) برقم: 608، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 401، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 405، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25266»