🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

212. ‏(‏210‏)‏ بَابُ نَفْضِ الْيَدَيْنِ مِنَ التُّرَابِ بَعْدَ ضَرْبِهِمَا عَلَى الْأَرْضِ قَبْلَ النَّفْخِ فِيهِمَا، وَقَبْلَ مَسْحِ الْوَجْهِ وَالْيَدَيْنِ لِلتَّيَمُّمِ‏.‏
تیمّم کے لیے دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارنے کے بعد، ان میں پھونک مارنے سے پہلے اور چہرے اور ہاتھوں کے مسح سے پہلے، دونوں ہاتھوں سے مٹی جھاڑنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 269
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، نا أَبُو يَحْيَى يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَلَمَةَ بنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ: إِنَّا نَجْنُبُ، وَلَيْسَ مَعَنَا مَاءٌ، فَذَكَرَ قِصَّتَهُ مَعَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، وَقَالَ: وَقَالَ يَعْنِي عَمَّارًا : فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ بِيَدَيْكَ هَكَذَا وَهَكَذَا , وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى التُّرَابِ، ثُمَّ نَفَضَهُمَا، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَدْخَلَ شُعْبَةُ بَيْنَ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، وَبَيْنَ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي هَذَا الْخَبَرِ ذَرًّا. رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، إِلا أَنَّهُ لَيْسَ فِي خَبَرِ الثَّوْرِيِّ، وَشُعْبَةَ: نَفْضُ الْيَدَيْنِ مِنَ التُّرَابِ
سیدنا عبدالرحمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو اُس نے کہا کہ ہم جنبی ہو جاتے ہیں اور ہمارے پاس پانی نہیں ہے (تو نماز کیسے ادا کریں) پھر اُنہوں نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اُن کا واقعہ بیان کیا۔ کہتے ہیں کہ اور حضرت عمار نے فرمایا، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ واقعہ بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لئے یہی کافی تھا کہ تُو اپنے دونوں ہاتھوں سے ایسے ایسے کرتا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ مٹی پر مارے، پھر اُنہیں جھاڑا پھر اُن میں پھونک ماری اور اُن سے اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی سند میں امام شعبہ نے سلمہ بن کھیل اور سعید بن عبدالرحمٰن کے درمیان ذر (راوی) کو داخل کر دیا ہے۔ اس حدیث کا امام ثوری نے سلمہ سے اور اُنہوں نے ابومالک اور عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے عبدالرحمان بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے۔ مگر امام ثوری اور شعبہ کی روایت میں ”ہاتھوں سے مٹّی جھاڑنے“ کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جِمَاعُ أَبْوَابِ التَّيَمُّمِ عِنْدَ الْإِعْوَازِ مِنَ الْمَاءِ فِي السَّفَرِ،/حدیث: 269]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 338، 339، 340، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 368، وابن الجارود فى "المنتقى"، 139، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 266، 267، 268، 269، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1267، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 311، وأبو داود فى (سننه) برقم: 322، والترمذي فى (جامعه) برقم: 144، والدارمي فى (مسنده) برقم: 772، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 569، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1022، والدارقطني فى (سننه) برقم: 696، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18605، والحميدي فى (مسنده) برقم: 144»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 270
نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، نا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي مُوسَى، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا يَتَيَمَّمُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لا يَتَيَمَّمُ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، فَأَجْنَبْتُ، فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ عَلَى أَنْ تَضْرِبَ بِكَفَّيْكَ عَلَى الأَرْضِ، ثُمَّ تَمْسَحَهُمَا، ثُمَّ تَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ وَكَفَّيْكَ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَقَوْلُهُ فِي هَذَا الْخَبَرِ: ثُمَّ تَمْسَحَهُمَا هُوَ النَّفْضُ بِعَيْنِهِ وَهُوَ مَسْحُ إِحْدَى الرَّاحَتَيْنِ بِالأُخْرَى لِيَنْفُضَ مَا عَلَيْهِمَا مِنَ التُّرَابِ
حضرت شقیق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے ابوعبدالرحمان، آپ کا کیا خیال ہے اگر ایک شخص جنبی ہو جائے تو اُسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے، کیا وہ تیمّم کرتا رہے گا؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ تیمّم نہیں کرے گا (اور نہ نماز پڑھے گا) تو سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا، کیا آپ نے سیدنا عمار کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا ہوا قول نہیں سنا، (جس میں وہ کہتے ہیں کہ) مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ضروری کام کے لئے بھیجا تو (راستے میں) میں جنبی ہو گیا اور مجھے پانی نہ ملا تو میں جانور کی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا (اور نماز پڑھ لی) پھر میں نے (واپس آکر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں اتنا ہی کافی تھا کہ تم اپنے دونوں ہاتھ زمیں پر مارتے پھر اُن کو (آپس میں) ملتے پھر اُن سے اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کا مسح کر لیتے۔“ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان «‏‏‏‏ثُمَّ تَمْسَحَ» ‏‏‏‏ اس سے مراد دونوں ہاتھوں سے مٹی جھاڑنا ہی ہے۔ (کیونکہ) النفض ایک ہتھیلی کو دوسری کے ساتھ ملنے کو کہتے ہیں تاکہ اُن پر لگی ہوئی مٹی جھڑ جائے۔ [صحيح ابن خزيمه/جِمَاعُ أَبْوَابِ التَّيَمُّمِ عِنْدَ الْإِعْوَازِ مِنَ الْمَاءِ فِي السَّفَرِ،/حدیث: 270]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 345، 346، 347، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 368، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 270، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1304، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 319، وأبو داود فى (سننه) برقم: 321، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1031، والدارقطني فى (سننه) برقم: 684، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18618»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں