🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

222. ‏(‏220‏)‏ بَابُ غَسْلِ بَوْلِ الصَّبِيَّةِ مِنَ الثَّوْبِ
بچّی کے پیشاب کو کپڑے سے دھونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 282
نا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، نا أَسَدٌ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ تَمَّامٍ الْمِصْرِيُّ ، نا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ ، عَنْ لُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، قَالَتْ: بَالَ الْحُسَيْنُ فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: هَاتِ ثَوْبَكَ، هَاتِ أَغْسِلْهُ، فَقَالَ:" إِنَّمَا يُغْسَلُ بَوْلُ الأُنْثَى، وَيُنْضَحُ بَوْلُ الذَّكَرِ"
حضرت لبابہ بنت حارث بیان کرتی ہیں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں پیشاب کردیا تو میں نے کہا کہ اپنا کپڑا دیجیے (لائیے) میں اسے دھو دوں توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچّی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور بچّے کے پیشاب پر پانی کے چھنیٹے مارے جاتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ تَطْهِيرِ الثِّيَابِ بِالْغَسْلِ مِنَ الْأَنْجَاسِ/حدیث: 282]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 282، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 592، وأبو داود فى (سننه) برقم: 375، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 522، 3923، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4220، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27516»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 283
نا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، نا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِي مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ الطَّائِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ ، قَالَ: كُنْتُ خَادِمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجِيءَ بِالْحَسَنِ، أَوِ الْحُسَيْنِ، فَبَالَ عَلَى صَدْرِهِ، فَأَرَادُوا أَنْ يَغْسِلُوهُ، فَقَالَ:" رُشُّوهُ رَشًّا، فَإِنَّهُ يُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ، وَيُرَشُّ بَوْلُ الْغُلامِ"
سیدنا ابوسمح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم تھا، سیدنا حسن یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو لایا گیا تو اُنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک پر پیشاب کر دیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے دھونا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِسے پانی کے چھینٹے مار دو کیونکہ بچّی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے اور بچّے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ تَطْهِيرِ الثِّيَابِ بِالْغَسْلِ مِنَ الْأَنْجَاسِ/حدیث: 283]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 283، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 593، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 224، وأبو داود فى (سننه) برقم: 376، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 526، 613، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4223، والدارقطني فى (سننه) برقم:، والطبراني فى(الكبير) برقم: 958»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں