صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ بَعْثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزُّبَيْرَ طَلِيعَةً وَحْدَهُ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زبیر رضی اللہ عنہ کو اکیلے کافروں کی خبر لانے کے لیے بھیجنا۔
حدیث نمبر: 7261
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمَدِينِيِّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" نَدَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ ثَلَاثًا، فَقَالَ: لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ"، قَالَ سُفْيَانُ: حَفِظْتُهُ مِنْ ابْنِ الْمُنْكَدِر وَقَالَ لَهُ أَيُّوبُ: يَا أَبَا بَكْرٍ حَدِّثْهُمْ عَنْ جَابِرٍ، فَإِنَّ الْقَوْمَ يُعْجِبُهُمْ أَنْ تُحَدِّثَهُمْ عَنْ جَابِرٍ، فَقَالَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ: سَمِعْتُ جَابِرًا، فَتَابَعَ بَيْنَ أَحَادِيثَ سَمِعْتُ جَابِرًا، قُلْتُ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ الثَّوْرِيَّ يَقُولُ يَوْمَ قُرَيْظَةَ، فَقَالَ:" كَذَا حَفِظْتُهُ مِنْهُ كَمَا أَنَّكَ جَالِسٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ قَالَ سُفْيَانُ: هُوَ يَوْمٌ وَاحِدٌ وَتَبَسَّمَ سُفْيَانُ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن المنکدر نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، بیان کیا کہ غزوہ خندق کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (دشمن سے خبر لانے کے لیے) صحابہ سے کہا تو زبیر رضی اللہ عنہ تیار ہو گئے پھر ان سے کہا تو زبیر رضی اللہ عنہ ہی تیار ہوئے۔ پھر کہا، پھر بھی انہوں نے ہی آمادگی دکھلائی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کے حواری (مددگار) ہوتے ہیں اور میری حواری زبیر ہیں۔ اور سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ میں نے یہ روایت ابن المنکدر سے یاد کی اور ایوب نے ابن المنکدر سے کہا، اے ابوبکر! (یہ محمد بن منکدر کی کنیت ہے) ان سے جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کیجئے کیونکہ لوگ پسند کرتے ہیں کہ آپ جابر رضی اللہ عنہ کی احادیث بیان کریں تو انہوں نے اسی مجلس میں کہا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا اور چار احادیث میں پے در پے یہ کہا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ علی بن عبداللہ مدینی نے کہا کہ میں نے سفیان بن عیینہ سے کہا کہ سفیان ثوری تو غزوہ قریظہ کہتے ہیں (بجائے غزوہ خندق کے) انہوں نے کہا کہ میں نے اتنے ہی یقین کے ساتھ یاد کیا ہے جیسا کہ تم اس وقت بیٹھے ہو کہ انہوں نے غزوہ خندق کہا، سفیان نے کہا کہ یہ دونوں ایک ہی غزوہ ہیں (کیونکہ) غزوہ خندق کے فوراً بعد اسی دن غزوہ قریظہ پیش آیا اور وہ مسکرائے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب أَخْبَارِ الْآحَادِ/حدیث: 7261]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کے روز صحابہ کو آواز دی تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ہی تیار ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ پکارا تو بھی حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے آمادگی کا اظہار کیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کا مدد گار ہوتا ہے اور میرا مددگار زبیر رضی اللہ عنہ ہے۔“ (راویِ حدیث) سفیان نے کہا: ”میں نے یہ حدیث محمد بن منکدر سے یاد کی ہے۔“ ایوب نے ان (ابن منکدر) سے کہا: ”اے ابوبکر! آپ لوگوں سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کریں کیونکہ لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں“، تو انہوں نے اسی مجلس میں کہا: ”میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ہے“ اور پے در پے احادیث بیان کرنے لگے کہ ”میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔“ (علی بن عبداللہ کہتے ہیں:) میں نے سفیان بن عیینہ سے کہا: ”سفیان ثوری نے یومِ قریظہ کہا۔“ سفیان بن عیینہ نے کہا: ”میں نے ابن منکدر سے یومِ خندق اس طرح آمنے سامنے یاد کیا ہے جیسے آپ بیٹھے ہیں۔“ سفیان نے کہا: ”یہ دونوں نام ایک ہی غزوے کے ہیں“ اور پھر سفیان مسکرا دیے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب أَخْبَارِ الْآحَادِ/حدیث: 7261]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة