🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

706. (473) بَابُ قَضَاءِ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ
سورج طلوع ہونے کے بعد فجر کی دو سنّتوں کو قضا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1118
إِذَا نَامَ الْمَرْءُ عَنْهُمَا فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ إِلَّا بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ
جبکہ نمازی انہیں ادا کرنے سے سو یا رہ جائے اور سورج طلوع ہونے کے بعد بیدار ہو [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ وَمَا فِيهَا مِنَ السُّنَنِ/حدیث: Q1118]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1118
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَعْرَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيَأْخُذْ كُلُّ إِنْسَانٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ ؛ فَإِنَّ هَذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ"، فَفَعَلْنَا، فَدَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ حِينَ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ، وَصَلَّى الْغَدَاةَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں رات کے آخری حصّے میں آرام کے لئے پڑاؤ ڈالا، پھر ہم سورج طلوع ہونے کے بعد ہی بیدار ہوئے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر شخص اپنی سواری کی لگام پکڑ لے (اور یہاں سے چل دے) کیونکہ اس جگہ شیطان ہمارے پاس آ گیا ہے۔ (اور ہماری نماز فوت ہو گئی ہے)“ چنانچہ ہم نے حُکم کی تعمیل کی (کچھ آگے جا کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا پھر اذان کے بعد دو رکعات سنّت ادا کیں اور نماز فجر پڑھائی۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ وَمَا فِيهَا مِنَ السُّنَنِ/حدیث: 1118]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 680، ومالك فى (الموطأ) برقم: 35، ابن الجارود فى "المنتقى"، 266، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 988، 999، 1118، 1252، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1459، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 617، وأبو داود فى (سننه) برقم: 435، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3163، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 697، 1155، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1924، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9665»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں