🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

807. (574) بَابُ الزَّجْرِ عَنْ تَحَرِّي الصَّلَاةِ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَعِنْدَ غُرُوبِهَا
سورج کے طلوع اور غروب ہوتے وقت قصد و کوشش کے ساتھ نماز پڑھنا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1273
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ السَّكْتَ لَا يَكُونُ خِلَافَ النُّطْقِ وَلَا يَجُوزُ الِاحْتِجَاجُ بِالسَّكْتِ عَلَى النُّطْقِ عَلَى مَا يَتَوَهَّمُهُ بَعْضُ مَنْ يَدَّعِي الْعِلْمَ، إِذْ لَوْ جَازَ الِاحْتِجَاجُ بِالسَّكْتِ عَلَى النُّطْقِ لَكَانَ فِي قَوْلِهِ: لَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ إِبَاحَةُ الصَّلَاةِ إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَإِنْ كَانَ الْمُصَلِّي مُتَحَرِّيًا بِصَلَاتِهِ طُلُوعَ الشَّمْسِ

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1273
نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نَا يَحْيَى ، نَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، نَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَحَرَّوْا بِصَلاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ، وَلا غُرُوبَهَا، فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ" وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا بَرَزَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَمْسِكُوا عَنِ الصَّلاةِ حَتَّى يَسْتَوِيَ، فَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَمْسِكُوا عَنِ الصَّلاةِ حَتَّى يَغِيبَ" وَهَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ وَقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ:" فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بِقَرْنَيْ شَيْطَانٍ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیا ن کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی نماز کی ادائیگی کے ساتھ طلوع شمس اور غروب شمس کا قصد و ارادہ نہ کرو۔ کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے۔“ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سورج کا کنارہ نکل آئے تو اس کے برابر ہونے تک نماز سے رکے رہو۔ اور جب سورج کا کنارہ غروب ہو جائے تو اس کے مکمّل غروب ہونے تک نماز سے رک جاؤ۔“ یہ بندار کی حدیث ہے اور جناب ابوکریب کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ ” بیشک وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ الْأَوْقَاتِ الَّتِي يُنْهَى عَنْ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ فِيهِنَّ/حدیث: 1273]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 582، 583، 585، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 828، ومالك فى (الموطأ) برقم: 742، وابن الجارود فى "المنتقى"، 309، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1273، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1545، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 562، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4449، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4702»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1274
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُهَلَّبَ بْنَ أَبِي صُفْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تُصَلُّوا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ، وَلا حِينَ تَغْرُبُ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، وَتَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ" وَفِي خَبَرِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ وَمَعَهَا قَرْنُ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا" دِلالَةٌ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَهَى عَنِ الصَّلاةِ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ قَدْ نَهَى عَنِ الصَّلاةِ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَكَذَا خَبَرُ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ: حَتَّى تَرْتَفِعَ، خَرَّجْتُ هَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ فِي غَيْرِ هَذَا الْبَابِ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر تے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سورج طلوع ہورہا ہو اور غروب ہورہا ہو توتم نماز مت پڑھو، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے .“ اور جناب صنابحی کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ”بیشک سورج طلوع ہوتا ہے اور اس کے ساتھ شیطان کے سینگ ہوتے ہیں۔ پھر جب سورج بلند ہو جاتا ہے تو وہ اس سے الگ ہو جاتا ہے۔“ اس میں یہ دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس گھڑی میں (سورج طلوع کے وقت) نماز پڑھنے سے منع کیا تو سورج طلوع کے بعد بھی نماز پڑھنے سے منع کیا ہے حتیٰ کہ وہ بلند ہو جائے۔ اسی طرح جناب عمرو بن عبسہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ”یہاں تک کہ سورج بلند ہو جائے۔ -“ میں نے یہ دو احادیث اس باب کے علاوہ ایک اور باب میں بھی بیان کی ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ الْأَوْقَاتِ الَّتِي يُنْهَى عَنْ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ فِيهِنَّ/حدیث: 1274]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1274، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20486، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 7403»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں