صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1036. (85) بَابُ سُكُوتِ الْإِمَامِ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، وَبَعْدَ تَكْبِيرَةِ الِافْتِتَاحِ.
تکبیر افتتاح کے بعد اور قراءت سے پہلے امام کے خاموش رہنے کا بیان
حدیث نمبر: 1578
نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، نا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ، وَعِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ تَذَاكَرَا، فَحَدَّثَ سَمُرَةُ ، أَنَّهُ حَفِظَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكْتَتَيْنِ: " سَكْتَةً إِذَا كَبَّرَ، وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَتِهِ عِنْدَ رُكُوعِهِ"
جناب حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا سمرہ بن جندب اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے آپس میں مذاکرہ کیا تو سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو سکتے یاد رکھے ہیں، ایک سکتہ اُس وقت جب آپ تکبیر کہہ لیتے اور دوسرا سکتہ اُس وقت کرتے جب آپ رکوع سے پہلے قراءت سے فارغ ہوتے۔“ جبکہ وہ بلند آواز سے کلام نہ کر رہا ہو۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر اولیٰ اور قراءت کے درمیانی سکتہ میں جہری نمازوں میں آہستہ اور خفیہ طور سے دعا پڑھا کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ قِيَامِ الْمَأْمُومِينَ خَلْفَ الْإِمَامِ وَمَا فِيهِ مِنَ السُّنَنِ/حدیث: 1578]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1578، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1807، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 785، وأبو داود فى (سننه) برقم: 777، والترمذي فى (جامعه) برقم: 251، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 844، 845، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3128، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1182، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20398»