صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1042. (91) بَابُ ذِكْرِ إِجَابَةِ الرَّبِّ- عَزَّ وَجَلَّ- الْمُؤْمِنَ عِنْدَ فَرَاغِ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ
سورة الفاتحة کی قراءت سے فارغ ہونے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومن کی دعا قبول ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1584
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ . ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ ، فَلَمَّا انْفَتَلَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا، فَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا، وَعَلَّمَنَا صَلاتَنَا، فَقَالَ: " فَإِذَا كَبَّرَ الإِمَامُ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَالَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ. فَقُولُوا: آمِينَ، يُحِبَّكُمُ اللَّهُ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ مِنْ بَابِ تَأْمِينِ الْمَأْمُومِ عِنْدَ فَرَاغِ الإِمَامِ مِنْ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَإِنْ لَمْ يُؤَمِّنْ إِمَامُهُ جَهْلا أَوْ نِسْيَانًا
جناب حطان بن عبداللہ الرقاشی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی۔ پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا تو ہمیں ہماری سنّتیں بیان کیں اور ہمیں ہماری نماز سکھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب امام تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ » پڑھے تو تم آمین کہو۔ اللہ تعالیٰ تمہاری دعا قبول فرمائے گا۔“ امام ابوبکر رحمه اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا تعلق مقتدی کے امام کے سورة الفاتحة کی قراءت سے فارغ ہونے کے بعد آمین کہنے سے ہے۔ اگرچہ امام جہالت یا بھول جانے کی وجہ سے آمین نہ کہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ قِيَامِ الْمَأْمُومِينَ خَلْفَ الْإِمَامِ وَمَا فِيهِ مِنَ السُّنَنِ/حدیث: 1584]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 404، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1584، 1593، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2167، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 829، وأبو داود فى (سننه) برقم: 972، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 847، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2661، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1249، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19813»