🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1049. (98) بَابُ جَهْرِ الْإِمَامِ بِالْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ
نمازِ فجر میں امام کا بلند آواز سے قراءت کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1591
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ ، فَسَمِعَ قُطْبَةَ ، يَقُولُ: وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ عِلاقَةَ ، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ ، عَنْ عَمِّهِ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِسُورَةِ ق فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ: وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ سورة ق آية 10" . وَقَالَ مَرَّةً: بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ سورة ق آية 10. وَقَالَ عَبْدُ الْجَبَّارِ: قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ سورة ق آية 10"
سیدنا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز صبح میں سورۃ ق کی قراءت کرتے ہوئے سنا۔ (وہ کہتے ہیں) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ یہ آیت تلاوت کر رہے تھے «‏‏‏‏وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِيدٌ» ‏‏‏‏ اور کھجور کے بلند و بالا درخت پیدا کیے جن کے شگوفے تہ بہ تہ ہیں۔ اور ایک مرتبہ یہ الفاظ روایت کیے «‏‏‏‏بَاسِقَاتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِيدٌ» ‏‏‏‏ جناب عبدالجبار کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا «‏‏‏‏وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ» ‏‏‏‏۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ قِيَامِ الْمَأْمُومِينَ خَلْفَ الْإِمَامِ وَمَا فِيهِ مِنَ السُّنَنِ/حدیث: 1591]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 457، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 527، 1591، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1814، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3749، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 949، والترمذي فى (جامعه) برقم: 306، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1334، 1335، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 816، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4080، 4081، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19205، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1352، والحميدي فى (مسنده) برقم: 846»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں