صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1111. (160) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّهْيَ عَنْ ذَلِكَ لِتَأَذِّي الْمَلَائِكَةِ بِرِيحِهِ إِذِ النَّاسُ يَتَأَذَّوْنَ بِهِ.
اس بات کی دلیل کا بیان کہ لہسن اور پیاز کی ممانعت اس لئے ہے کہ فرشتے ان کی بُو سے تکلیف محسوس کرتے ہیں کیونکہ ان کی بُو سے لوگوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے
حدیث نمبر: 1668
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، نا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ الْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ. قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ بِبَلَدِنَا يَوْمَئِذٍ الثُّومُ، فَقَالَ:" مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا ؛ فَإِنَّ الْمَلائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الإِنْسَانُ"
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیاز اور گندنا کھانے سے منع کیا - فرماتے ہیں کہ ان دنوں ہمارے علاقے میں لہسن نہیں ہوتا تھا - تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اس پودے سے کھایا ہو وہ ہماری مسجد کے قریب ہرگز نہ آئے - کیونکہ فرشتوں کو اس چیز سے تکلیف ہوتی ہے جس سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں ـ“ [صحيح ابن خزيمه/جِمَاعُ أَبْوَابِ الْعُذْرِ الَّذِي يَجُوزُ فِيهِ تَرْكُ إِتْيَانِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 1668]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 854، 855، 5452، 7359، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 564، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1664، 1665، 1668، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1644، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 706، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3822، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1806، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3365، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5133، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15245، وأخرجه الحميدي فى (مسنده) برقم: 1336»