🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1116. (165) بَابُ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ بِالنَّهَارِ فِي الْجَمَاعَةِ ضِدَّ مَذْهَبِ مَنْ كَرِهَ ذَلِكَ
دن کے وقت نفل نماز باجماعت ادا کرنے کا بیان، اُن لوگوں کے مذہب کے برخلاف جو اسے مکروہ سمجھتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1673
نا مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الأَيْلِيُّ ، أَنَّ سَلامَةَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عُقَيْلٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، قَالَ: قَالَ لِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ : فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنْتُ لَهُ، فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ، ثُمَّ قَالَ: " أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِكَ؟" قَالَ: فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَبَّرَ، فَقُمْنَا، فَصَفَفْنَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ
سیدنا محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ دوسرے دن سورج بلند ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے گھر تشریف لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت چاہی تو میں نے آپ کو اجازت دی (اور خوش آمدید کہا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے بغیر گھر میں تشریف لے گئے اور پوچھا: تم اپنے گھر میں مجھ سے کس جگہ نماز پڑھوانا پسند کرتے ہو؟ کہتے ہیں کہ میں نے گھر کے کونے کی طرف آپ کو اشارہ کیا۔ لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوکر صف بندی کی تو آپ نے دو رکعات پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا - [صحيح ابن خزيمه/جِمَاعُ أَبْوَابِ الْعُذْرِ الَّذِي يَجُوزُ فِيهِ تَرْكُ إِتْيَانِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 1673]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 77، 189، 424، 425، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 33، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1653، 1654، 1673، 1709، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 223، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6560، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 787، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 660، 754، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3047، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12579»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں