🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1125. (174) بَابُ إِيجَابِ الْغُسْلِ عَلَى الْمُتَطَيِّبَةِ لِلْخُرُوجِ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَنَفْيِ قَبُولِ صَلَاتِهَا إِنْ صَلَّتْ قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ.
خوشبو لگا کر مسجد جانے والی عورت پر غسل کرنا واجب ہے اور اگر وہ غسل کرنے سے پہلے نماز پڑھتی ہے تو وہ قبول نہیں ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1682
نا أَبُو زُهَيْرٍ عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمِصْرِيُّ ، نا عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ يَعْنِي الْبَيْرُونِيَّ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: مَرَّتْ بِأَبِي هُرَيْرَةَ امْرَأَةٌ وَرِيحُهَا تَعْصِفُ، فَقَالَ لَهَا: إِلَى أَيْنَ تُرِيدِينَ يَا أَمَةَ الْجَبَّارِ؟ قَالَتْ: إِلَى الْمَسْجِدِ. قَالَ: تَطَيَّبْتِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: فَارْجِعِي فَاغْتَسِلِي، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنَ امْرَأَةٍ صَلاةً خَرَجَتْ إِلَى الْمَسْجِدِ وَرِيحُهَا تَعْصِفُ حَتَّى تَرْجِعَ فَتَغْتَسِلَ"
جناب موسٰی بن یسار سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے اس حال میں گزری کہ اُس کی خوشبو خوب مہک رہی تھی - تو اُنہوں نے فرمایا کہ اے جبار کی باندی، کہاں جارہی ہو؟ اُس نے جواب دیا کہ مسجد کی طرف جارہی ہوں۔ اُنہوں نے پوچھا، کیا خوشبو لگائی ہے؟ اُس نے کہا کہ جی ہاں۔ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) نے فرمایا تو پھرواپس لوٹ جاؤ اور غسل کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: اللہ تعالیٰ اُس عورت کی نماز قبول نہیں فرماتا جو مسجد کی طرف اس حال میں نکلتی ہے کہ اُس کی خوشبو خوب مہک رہی ہو - حتّیٰ کہ وہ واپس جاکر غسل کرلے ـ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ صَلَاةِ النِّسَاءِ فِي الْجَمَاعَةِ/حدیث: 1682]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1682، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5142، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9362، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4174، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4002، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5458، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7473»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں