صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
جمعہ کے دن خطبہ میں قرآن مجید کی تلاوت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1786
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ ، عَنِ ابْنَةِ الْحَارِثَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ، قَالَتْ: " مَا حَفِظْتُ ق إِلا مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يُقْرَأُ بِهَا فِي كُلِّ جُمُعَةٍ , وَكَانَ تَنُّورُنَا وَتَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدًا" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: ابْنَةُ الْحَارِثَةِ هَذِهِ هِيَ أُمُّ هِشَامٍ بِنْتُ حَارِثَةَ
حضرت حارثہ بن نعمان کی صاحبزادی بیان کرتی ہیں کہ میں نے سورۃ ق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مُنہ مبارک سے سن کر یاد کی ہے، آپ یہ سورت ہر جمعہ کو پڑھتے تھے اور ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تنور ایک ہی تھا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ حضرت حارثہ کی بیٹی اُم ہشام بنت حارثہ ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1786]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 872، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1786، 1787، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1054، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 948، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1100، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5858، وأحمد فى (مسنده) برقم: 28098»
حدیث نمبر: 1787
نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ هِشَامِ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ، قَالَتْ: " قَرَأْتُ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَقْرَؤُهَا كُلَّ جُمُعَةٍ عَلَى الْمِنْبَرِ إِذَا خَطَبَ النَّاسَ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هَذَا هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ , نَسَبَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ
سیدہ ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے سورۃ ق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک سے سن کر پڑھی اور یاد کی ہے۔ آپ یہ سورت ہر جمعہ کو منبر پر لوگوں کو خطبہ دیتے وقت پڑھا کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1787]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 872، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1786، 1787، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1054، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 948، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1100، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5858، وأحمد فى (مسنده) برقم: 28098»