🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

43. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ القیامہ میں) ارشاد ”قرآن نازل ہوتے وقت اس کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دیا کر“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q7524
وَفِعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ. وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَنَا مَعَ عَبْدِي حَيْثُمَا ذَكَرَنِي، وَتَحَرَّكَتْ بِي شَفَتَاهُ.
‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے اترنے سے پہلے وحی اترتے وقت ایسا کرتے تھے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نقل کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”میں اپنے بندے کے ساتھ ہوں، اس وقت تک جب بھی وہ مجھے یاد کرتا ہے اور میری یاد میں اپنے ہونٹ ہلاتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: Q7524]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7524
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ سورة القيامة آية 16، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً وَكَانَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ، فَقَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأَنَا أُحَرِّكُهُمَا لَكَ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُهُمَا، فَقَالَ سَعِيدٌ: أَنَا أُحَرِّكُهُمَا كَمَا كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُحَرِّكُهُمَا، فَحَرَّكَ شَفَتَيْهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ {16} إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ {17} سورة القيامة آية 16-17، قَالَ: جَمْعُهُ فِي صَدْرِكَ، ثُمَّ تَقْرَؤُهُ: فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْءَانَهُ سورة القيامة آية 18، قَالَ: فَاسْتَمِعْ لَهُ وَأَنْصِتْ، ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ تَقْرَأَهُ، قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام اسْتَمَعَ، فَإِذَا انْطَلَقَ جِبْرِيلُ قَرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَقْرَأَهُ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (سورۃ القیامہ میں) اللہ تعالیٰ کا ارشاد «لا تحرك به لسانك‏» کے متعلق کہ وحی نازل ہوتی ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا بہت بار پڑتا ہے اور آپ اپنے ہونٹ ہلاتے۔ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں تمہیں ہلا کے دکھاتا ہوں جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہلاتے تھے۔ سعید نے کہا کہ جس طرح ابن عباس رضی اللہ عنہما ہونٹ ہلا کر دکھاتے تھے، میں تمہارے سامنے اسی طرح ہلاتا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے ہونٹ ہلائے۔ (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ) اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «لا تحرك به لسانك لتعجل به * إن علينا جمعه وقرآنه‏» یعنی ”تمہارے سینے میں قرآن کا جما دینا اور اس کو پڑھا دینا ہمارا کام ہے جب ہم (جبرائیل علیہ السلام کی زبان پر) اس کو پڑھ چکیں اس وقت تم اس کے پڑھنے کی پیروی کرو۔“ مطلب یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کے پڑھتے وقت کان لگا کر سنتے رہو اور خاموش رہو، یہ ہمارا ذمہ ہے کہ ہم تم سے ویسا ہی پڑھوا دیں گے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اس آیت کے اترنے کے بعد جب جبرائیل علیہ السلام آتے (قرآن سناتے) تو آپ کان لگا کر سنتے۔ جب جبرائیل علیہ السلام چلے جاتے تو آپ لوگوں کو اسی طرح پڑھ کر سنا دیتے جیسے جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو پڑھ کر سنایا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7524]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے ارشادِ باری تعالیٰ: ﴿لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ﴾ [سورة القيامة: 16] کی تفسیر کرتے ہوئے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نزولِ وحی کے وقت شدت محسوس کرتے تھے اور اپنے ہونٹ ہلاتے تھے۔ ”میں تمہیں ہونٹ ہلا کر دکھاتا ہوں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حرکت دیا کرتے تھے۔“ (راویِ حدیث) حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں اپنے ہونٹ ہلاتا ہوں جیسے میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو ہونٹ ہلاتے دیکھا تھا“، پھر انہوں نے اپنے دونوں ہونٹ ہلائے۔ (حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ﴾ [سورة القيامة: 17] ”بیشک اس (وحی) کو آپ کے دل میں جمع کرنا اور زبان سے پڑھوا دینا ہمارے ذمے ہے۔“ یعنی تمہارے سینے میں قرآن کا جمع کر دینا اور اس کا پڑھا دینا ہمارا کام ہے۔ ﴿فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ﴾ [سورة القيامة: 18] ”پھر جب ہم اس کو پڑھ چکیں تو اس وقت آپ اس کے پڑھے ہوئے کی اتباع کریں۔“ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام کے پڑھتے وقت کان لگا کر سنتے رہیں اور خاموش رہیں، یہ ہمارا ذمہ ہے کہ آپ قرآن اسی طرح پڑھیں گے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اس آیت کے اترنے کے بعد حضرت جبریل علیہ السلام آتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان لگا کر سنتے، پھر جب حضرت جبریل علیہ السلام چلے جاتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اسی طرح پڑھ کر سنا دیتے جیسا کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے آپ کو پڑھ کر سنایا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7524]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں