🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا روزے دار کے بوسے کو پانی کے ساتھ کلّی کرنے کے مثل قرار دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1999
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ بُكَيْرٍ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ قَالَ: هَشَشْتُ يَوْمًا، فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا، قَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ بِالْمَاءِ وَأَنْتَ صَائِمٌ؟" قَالَ: فَقُلْتُ: لا بَأْسَ بِذَلِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرَّبِيعُ: أَظُنُّهُ قَالَ:" فَفِيمَ؟" . حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْوَلِيدِ، يَقُولُ: جَاءَنِي هِلالٌ الرَّازِيُّ. فَسَأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ سُوَيْدٍ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز میں اپنی بیوی کو دیکھ کر خوش ہوا تو میں نے اُس کا بوسہ لے لیا، حالانکہ میں روزے دار تھا۔ تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، میں نے آج بہت بڑا خطرناک کام کرلیا ہے۔ میں نے روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بتاؤ اگر تم روزے کی حالت میں پانی کے ساتھ کلّی کرلیتے تو کیا ہوتا؟“ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی، اس میں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جناب ربیع کرتے ہیں) میرے خیال میں آپ نے فرمایا: ”پھر پریشانی کی بات کیا ہے؟“ (پھر اس میں حرج کیا ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ عبد الملک بن سعید سے مراد ابن سوید ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1999]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1999، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3544، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1577، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3036، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2385، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1765، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8115، 8353، وأحمد فى (مسنده) برقم: 140»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں