صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کی دلیل کا بیان کہ مسلمانوں پر رمضان المبارک کے علاوہ صرف وہی روزے فرض ہیں جو اُن کے اپنے افعال اور اقوال کی وجہ سے فرض ہوتے ہیں کسی شخص کا یہ کہنا کہ میں نے سارے رمضان کے روزے رکھے ہیں، منع ہے
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ کی روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام کے بارے میں مذکور سوال میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور رمضان کے روزے (تم پر فرض ہیں)۔ اُس نے پرچھا تو کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر روزے فرض ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، مگر یہ کہ تم نفلی روزے رکھو۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2074]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 46، 1891، 2678، 6956، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 11، ومالك فى (الموطأ) برقم: 604، وابن الجارود فى "المنتقى"، 161، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 306، 2074، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1724، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 457، وأبو داود فى (سننه) برقم: 391، 3252، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1619، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1720، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1407»