🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

56. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الصافات میں) ارشاد ”اور اللہ نے پیدا کیا تمہیں اور جو کچھ تم کرتے ہو“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q7555
{إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ}. وَيُقَالُ لِلْمُصَوِّرِينَ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ. وَيُقَالُ لِلْمُصَوِّرِينَ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلا لَهُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ سورة الأعراف آية 54، قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: بَيَّنَ اللَّهُ الْخَلْقَ مِنَ الْأَمْرِ لِقَوْلِهِ تَعَالَى: أَلا لَهُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ سورة الأعراف آية 54 وَسَمَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِيمَانَ عَمَلًا، قَالَ أَبُو ذَرٍّ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟، قَالَ: إِيمَانٌ بِاللَّهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ، وَقَالَ: جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ، وَقَالَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْنَا بِجُمَلٍ مِنَ الْأَمْرِ إِنْ عَمِلْنَا بِهَا دَخَلْنَا الْجَنَّةَ، فَأَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ، وَالشَّهَادَةِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، فَجَعَلَ ذَلِكَ كُلَّهُ عَمَلًا.
‏‏‏‏ ”اور اللہ نے پیدا کیا تمہیں اور جو کچھ تم کرتے ہو۔“ اور (سورۃ القمر میں) فرمایا «إنا كل شىء خلقناه بقدر‏» ”بلاشبہ ہم نے ہر چیز کو اندازے سے پیدا کیا“ اور مصوروں سے کہا جائے گا کہ جو تم نے پیدا کیا ہے اس میں جان ڈالو۔ اور (سورۃ الاعراف میں) فرمایا «إن ربكم الله الذي خلق السموات والأرض في ستة أيام ثم استوى على العرش يغشي الليل النهار يطلبه حثيثا والشمس والقمر والنجوم مسخرات بأمره ألا له الخلق والأمر تبارك الله رب العالمين‏» ”بلاشبہ تمہارا مالک اللہ وہ ہے جس نے آسمان و زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر زمین آسمان بنا کر تخت پر چڑھا، رات کو دن سے ڈھانپتا ہے اور دن کو رات سے، دونوں ایک دوسرے کے پیچھے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اس کے حکم کے تابع ہیں۔ ہاں سن لو! اسی نے سب کچھ بنایا اسی کا حکم چلتا ہے۔ اللہ کی ذات بہت بابرکت ہے جو سارے جہان کو پالنے والا ہے۔“ سفیان بن عیینہ نے کہا کہ اللہ نے «لأمر» کو «خلق» سے الگ کیا تب، تو یوں فرمایا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کو بھی عمل کہا۔ ابوذر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا «جزاء بما كانوا يعملون‏» ”یہ بدلہ ہے اس کا جو وہ کرتے تھے۔“ قبیلہ عبدالقیس کے وفد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہمیں آپ چند ایسے جامع اعمال بتا دیں جن پر اگر ہم عمل کر لیں تو جنت میں داخل ہو جائیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایمان، شہادت، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا۔ اسی طرح آپ نے ان سب چیزوں کو عمل قرار دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: Q7555]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7555
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، وَالْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ زَهْدَمٍ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ هَذَا الْحَيِّ مِنْ جُرْمٍ وَبَيْنَ الْأَشْعَرِيِّينَ وُدٌّ وَإِخَاءٌ، فَكُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ الطَّعَامُ فِيهِ لَحْمُ دَجَاجٍ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ كَأَنَّهُ مِنَ الْمَوَالِي، فَدَعَاهُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا، فَقَذِرْتُهُ، فَحَلَفْتُ لَا آكُلُهُ، فَقَالَ: هَلُمَّ، فَلْأُحَدِّثْكَ عَنْ ذَاكَ إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ، قَالَ: وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ، فَسَأَلَ عَنَّا، فَقَالَ:" أَيْنَ النَّفَرُ الْأَشْعَرِيُّونَ، فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى، ثُمَّ انْطَلَقْنَا، قُلْنَا: مَا صَنَعْنَا حَلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا وَمَا عِنْدَهُ مَا يَحْمِلُنَا، ثُمَّ حَمَلَنَا تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ وَاللَّهِ لَا نُفْلِحُ أَبَدًا، فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ، فَقُلْنَا لَهُ: فَقَالَ: لَسْتُ أَنَا أَحْمِلُكُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ حَمَلَكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ وَتَحَلَّلْتُهَا".
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے عبدالوہاب نے، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے، ان سے ابوقلابہ اور قاسم تمیمی نے، ان سے زہدم نے بیان کیا کہ اس قبیلہ جرم اور اشعریوں میں محبت اور بھائی چارہ کا معاملہ تھا۔ ایک مرتبہ ہم ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ ان کے پاس کھانا لایا گیا جس میں مرغی کا گوشت بھی تھا۔ ان کے ہاں ایک بنی تیم اللہ کا بھی شخص تھا۔ غالباً وہ عرب کے غلام لوگوں میں سے تھا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے پاس بلایا تو اس نے کہا کہ میں نے مرغی کو گندگی کھاتے دیکھا ہے اور اسی وقت سے قسم کھا لی کہ اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا، سنو! میں تم سے اس کے متعلق ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کرتا ہوں۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اشعریوں کے کچھ افراد کو لے کر حاضر ہوا اور ہم نے آپ سے سواری مانگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واللہ! میں تمہارے لیے سواری کا انتظام نہیں کر سکتا، نہ میرے پاس کوئی ایسی چیز ہے جسے میں تمہیں سواری کے لیے دوں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال غنیمت میں سے کچھ اونٹ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے متعلق پوچھا کہ اشعری لوگ کہاں ہیں؟ چنانچہ آپ نے ہمیں پانچ عمدہ اونٹ دینے کا حکم دیا۔ ہم انہیں لے کر چلے تو ہم نے اپنے عمل کے متعلق سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی تھی کہ ہمیں سواری کے لیے کوئی جانور نہیں دیں گے اور نہ آپ کے پاس کوئی ایسا جانور ہے جو ہمیں سواری کے لیے دیں۔ ہم نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قسم بھول گئے ہیں، واللہ! ہم کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔ ہم واپس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور آپ سے صورت حال کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں یہ سواری نہیں دے رہا ہوں بلکہ اللہ دے رہا ہے۔ واللہ! میں اگر کوئی قسم کھا لیتا ہوں اور پھر اس کے خلاف میں دیکھتا ہوں تو میں وہی کرتا ہوں جس میں بھلائی ہوتی ہے اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7555]
حضرت زہدم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”قبیلہ جرم اور اشعری قبیلے کے درمیان محبت اور بھائی چارے کا معاملہ تھا۔ ایک مرتبہ ہم حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے اور ان کے ہاں بنو تیم اللہ کا ایک شخص بھی تھا۔ غالباً وہ عرب کے غلام لوگوں میں سے تھا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ہاں کھانے کی دعوت دی تو اس نے کہا: ”میں نے مرغی کو گندگی کھاتے دیکھا تو اسی وقت سے قسم اٹھائی کہ اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔“ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آؤ! میں تمہیں اس کے متعلق ایک حدیث بیان کرتا ہوں۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اشعری قبیلے کے چند افراد لے کر حاضر ہوا اور ہم نے آپ سے سواری مانگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تمہارے لیے سواری کا بندوبست نہیں کر سکتا اور نہ میرے پاس کوئی چیز ہے جسے میں تمہیں سواری کے لیے دوں۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال غنیمت میں سے کچھ اونٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے متعلق دریافت کیا: ”اشعری کہاں ہیں؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ عمدہ اونٹ دینے کا حکم دیا۔ جب ہم انہیں لے کر چلے تو ہم نے کہا: ”یہ ہم نے کیا کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی تھی کہ وہ ہمیں سواری کے لیے کوئی جانور نہیں دیں گے اور نہ آپ کے پاس کوئی ایسا جانور ہے جو ہمیں سواری کے لیے دیں، اس کے باوجود آپ نے ہمیں سواریاں دی ہیں۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی قسم سے غافل کر دیا ہے۔ اللہ کی قسم! ایسے حالات میں تو ہم کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔“ پھر ہم آپ کی طرف لوٹے اور آپ سے بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں سواریاں نہیں دیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے دی ہیں۔ اللہ کی قسم! میں جب کوئی قسم اٹھاتا ہوں، پھر اس کا غیر اس سے بہتر دیکھتا ہوں تو وہ کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے اور قسم کا کفارہ دے کر اس سے خلاصی حاصل کر لیتا ہوں۔“““ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7555]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7556
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ، قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ مُضَرَ وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي أَشْهُرٍ حُرُمٍ، فَمُرْنَا بِجُمَلٍ مِنَ الْأَمْرِ إِنْ عَمِلْنَا بِهِ دَخَلْنَا الْجَنَّةَ وَنَدْعُو إِلَيْهَا مَنْ وَرَاءَنَا قَالَ: آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ، عَنْ أَرْبَعٍ، آمُرُكُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَهَلْ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ؟ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَتُعْطُوا مِنَ الْمَغْنَمِ الْخُمُسَ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالظُّرُوفِ الْمُزَفَّتَةِ، وَالْحَنْتَمَةِ".
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، ان سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے قرہ بن خالد نے بیان کیا، ان سے ابوجمرہ ضبعی نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: تو آپ نے فرمایا کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور انہوں نے کہا کہ ہمارے اور آپ کے درمیان قبیلہ مضر کے مشرکین حائل ہیں اور ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینوں میں ہی آ سکتے ہیں۔ اس لیے آپ کچھ ایسے جامع احکام ہمیں بتا دیجئیے کہ اگر ہم ان پر عمل کریں تو جنت میں جائیں اور ان کی طرف ان لوگوں کو دعوت دیں جو ہمارے پیچھے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں چار کاموں کا حکم دیتا ہوں اور چار کاموں سے روکتا ہوں۔ میں تمہیں ایمان باللہ کا حکم دیتا ہوں۔ تمہیں معلوم ہے کہ ایمان باللہ کیا ہے؟ اس کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینے اور غنیمت میں سے پانچواں حصہ دینے کا حکم دیتا ہوں اور تمہیں چار کاموں سے روکتا ہوں، یہ کہ کدو کی تونبی اور لکڑی کے کریدے ہوئے برتن اور روغنی برتنوں اور سبز لاکھی برتنوں میں مت پیا کرو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7556]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور انہوں نے کہا: ”ہمارے اور آپ کے درمیان قبیلہ مضر کے مشرکین حائل ہیں، اس لیے ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینوں میں آسکتے ہیں۔ آپ ہمیں کچھ جامع احکام بتا دیں، ہم جن پر عمل پیرا ہوکر جنت میں چلے جائیں، نیز ان احکام کی طرف ان لوگوں کو دعوت دیں جو ہمارے پیچھے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں: میں تمہیں ایمان باللہ کا حکم دیتا ہوں۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ ایمان باللہ کیا ہے؟ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی اور معبودِ برحق نہیں، نیز نماز قائم کرنے، زکاۃ دینے اور غنیمت میں سے پانچواں حصہ دینے کا حکم دیتا ہوں۔ اور تمہیں چار کاموں سے روکتا ہوں: کدو کے برتن، لکڑی کے برتن، تارکول کیے ہوئے برتن اور سبز مٹکوں میں نبیذ بنا کر اسے مت نوش کرو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7556]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7557
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا، ان سے قاسم بن محمد نے بیان کیا اور ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ان تصویروں کو بنانے والوں پر قیامت میں عذاب ہو گا اور ان سے کہا جائے گا کہ تم نے جو بنایا ہے اسے زندہ بھی کر کے دکھاؤ۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7557]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ ان تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: جو تم نے پیدا کیا تھا ان کو زندہ کرو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7557]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7558
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، ان سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ان تصویروں کو بنانے والوں پر قیامت میں عذاب ہو گا اور ان سے کہا جائے گا کہ تم نے جو بنایا ہے اسے زندہ بھی کرو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7558]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: جو تم نے پیدا کیا تھا انہیں زندہ کرو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7558]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7559
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ كَخَلْقِي، فَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً، أَوْ لِيَخْلُقُوا حَبَّةً، أَوْ شَعِيرَةً".
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، ان سے ابن فضیل نے بیان کیا، ان سے عمارہ نے، ان سے ابوزرعہ نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر حد سے تجاوز کرنے والا اور کون ہے جو میری مخلوق کی طرح مخلوق بناتا ہے، ذرا وہ چنے کا دانہ پیدا کر کے تو دیکھیں یا گیہوں کا ایک دانہ یا جَو کا ایک دانہ پیدا کر کے تو دیکھیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7559]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: ”اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوسکتا ہے جو میرے پیدا کرنے کی مانند پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اگر ان میں ہمت ہے تو وہ چھوٹی سی چیونٹی پیدا کر کے دکھائیں یا اس کے علاوہ دانہ یا جو پیدا کریں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7559]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں