🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

پیر اور جمعرات کا روزہ رکھنا اس لئے بھی مستحب ہے کیونکہ ان دو دنوں میں اعمال اللہ تعالی کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2119
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ وَرَّاقٌ الْفِرْيَابِيِّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أُسَامَةَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ يَوْمَ الاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ"، وَيَقُولُ:" إِنَّ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ تُعْرَضُ فِيهِمَا الأَعْمَالُ"
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیر اور جمعرات کے دن کا روزہ رکھتے تھے اور فرماتے تھے: ”ان دو دنوں میں اعمال (اللہ تعالیٰ کے سامنے) پیش کیے جاتے ہیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2119]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2119، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2356، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2436، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1791، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8525، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22158»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2120
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ: يَوْمُ الاثْنَيْنِ، وَيَوْمُ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ مُؤْمِنٍ، إِلا عَبْدٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيَقُولُ: اتْرُكُوا، أَوْ أَرْجِئُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئَا" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ فِي مُوَطَّإِ مَالِكٍ مَوْقُوفٌ غَيْرُ مَرْفُوعٍ، وَهُوَ فِي مُوَطَّإِ ابْنِ وَهْبٍ مَرْفُوعٌ صَحِيحٌ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کے اعمال ہر ہفتے میں دوبار پیش کیے جاتے ہیں۔ پیر اور جمعرات کے دن۔ لہٰذا ہر مومن کی بخشش ہو جاتی ہے، سوائے اس بندے کے جس کی اپنے بھائی سے دشمنی یا جھگڑا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”ان دو کو رہنے دو یا انہیں مہلت دو حتّیٰ کہ (صلح کی طرف) لوٹ آئیں۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ روایت مؤطا امام مالک میں موقوف بیان ہوئی ہے جبکہ مؤطا ابن وہب میں مرفوع صحیح بیان ہوئی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2120]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2565، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3369، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2120، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3644، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4916، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2023، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6487، 6488، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7754»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں