🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

دنوں کے ذکر کے ابواب کا مجموعہ اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ایک چیز سے منع فرما دیتے ہیں جبکہ دوسری چیز کو جائز قرار دئیے بغیر اس سے خاموشی اختیار کرتے ہیں

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2146
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ، فِيهِمْ عُمَرُ، وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا صَلاةَ بَعْدَ صَلاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلا صَلاةَ بَعْدَ صَلاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ"، وَنَهَى عَنْ صَوْمِ يَوْمَيْنِ: يَوْمِ الْفِطْرِ، وَيَوْمِ النَّحْرِ . حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میرے پاس چند پسندیدہ لوگوں نے گواہی دی، ان میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں، اور میرے نزدیک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ پسندیدہ ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح کی نماز کے بعد طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے اور نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے۔ اور آپ نے دو دن، عیدالفطراور عید الاضحیٰ کے روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ روایت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2146]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 581، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 826، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1271، 1272، 2146، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 561، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1276، والترمذي فى (جامعه) برقم: 183، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1473، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1250، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4440، 4441، وأحمد فى (مسنده) برقم: 111»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں