🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1738. ‏(‏183‏)‏ بَابُ الصَّدَقَةِ عَنِ الْمَيِّتِ عَنْ غَيْرِ وَصِيَّةٍ مِنْ مَالِ الْمَيِّتِ، وَتَكْفِيرِ ذُنُوبِ الْمَيِّتِ بِهَا
میت کی وصیت کے بغیر اس کے مال میں سے اس کی طرف سے صدقہ کرنے کا بیان اس میت کے گناہوں کی بخشش ہوتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2498
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَبِي مَاتَ، وَتَرَكَ مَالا، وَلَمْ يُوصِ، فَهَلْ يُكَفَّرُ عَنْهُ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهُ، فَقَالَ:" نَعَمْ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میرے والد صاحب فوت ہوگئے ہیں اور کچھ مال بھی چھوڑ گئے ہیں۔ جبکہ وصیت کرکے نہیں گئے۔ تو کیا ان کی طرف سے میں صدقہ کروں تو ان کے گناہوں کا کفارہ بنیگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الصَّدَقَاتِ وَالْمُحْبَسَاتِ/حدیث: 2498]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1630، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2498، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3654، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6446، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2716، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12758، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8963، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 6494، والبزار فى (مسنده) برقم: 8305»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں