🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1802. (61) بَابُ الْهَدْيِ إِذَا عَطِبَ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ مَحِلَّهُ
قربانی کا جانور مکّہ مکرّمہ پہنچنے سے پہلے تھک جائے اور چلنے سے معذور ہو جائے تو اسے کیا کرنا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2577
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ . ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَاجِيَةُ الْخُزَاعِيُّ صَاحِبُ بُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنْ بُدْنِي؟" فَأَمَرَنِي أَنْ أَنْحَرَ كُلَّ بَدَنَةٍ عَطِبَتْ، ثُمَّ يُلْقَى نَعْلُهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ يُخَلَّى بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ فَيَأْكُلُونَهَا" ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ، عَنْ نَاجِيَةَ، وَقَالَ: قَالَ:" وَانْحَرْهُ وَاغْمِسْ نَعْلَهُ فِي دَمِهِ، وَاضْرِبْ بِهَا صَفْحَتَهُ"
حضرت عروہ بن زبیر رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ مجھے سیدنا ناجیہ الخزاعی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے اونٹ مکّہ مکرّمہ پہنچاتے تھے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میرے قربانی کے اونٹوں میں سے جو تھک جائے۔ میں اسے کیا کروں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حُکم دیا کہ میں ہر تھک جانے والے اونٹ کو ذبح کرکے اس کے جوتے اس کے خون میں ڈبو کر چھوڑ دوں۔ تاکہ ضرورتمند لوگ اس کا گوشت کھالیں۔ جناب وکیع کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس اونٹ کو ذبح کردو اور اس کا جوتا اس کے خون میں ڈبو کر اس کے پہلو پر مارو (تاکہ لوگ اسے پہچان کر گوشت کھالیں) [صحيح ابن خزيمه/كِتَابُ: الْمَنَاسِكِ/حدیث: 2577]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2577، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4023، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4123، 6605، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1762، والترمذي فى (جامعه) برقم: 910، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1950، 1951، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3106، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10363، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19246»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں