صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1810. (69) بَابُ إِحْرَامِ أَهْلِ الْمَنَاهِلِ الَّتِي هِيَ أَقْرَبُ إِلَى الْحَرَمِ مِنْ هَذِهِ الْمَوَاقِيتِ الَّتِي وَقَّتَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَنَازِلُهُمْ وَرَائِهَا،
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میقات سے دور رہنے والوں کے لئے جو میقات مقرر کیے ہیں۔
حدیث نمبر: Q2590
وَالْبَيَانُ أَنَّ مَوَاقِيتَ مَنْ مَنْزِلُهُ أَقْرَبُ إِلَى الْحَرَمِ مِنْ هَذِهِ الْمَوَاقِيتِ: مَنَازِلُهُمْ
تو جن لوگوں کے گھر ان میقات کی نسبت حرم سے قریب ہوں تو ان کے میقات ان کے گھر ہی ہوںگے۔ اور وہ اپنے اپنے گھروں ہی سے احرام باندھ لیںگے [صحيح ابن خزيمه/كِتَابُ: الْمَنَاسِكِ/حدیث: Q2590]
حدیث نمبر: 2590
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، وَلأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، فَهُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ، فَمَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ، فَمِنْ أَهْلِهِ، وَكَذَلِكَ حَتَّى أَهْلِ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منوّرہ والوں کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن منازل میقات مقرر فرمائے ہیں۔ یہ میقات ان علاقوں کے لوگوں کے لئے ہیں اور ان لوگوں کے لئے بھی جو دوسرے علاقوں کے رہائشی ہوں اور ان میقات سے گزر کرحج وعمرہ کے لئے جارہے ہوں۔ لہٰذا جو شخص حج یا عمرہ ادا کرنا چاہتا ہو اور اس کا گھر ان میقات کے اندر (مکّہ کی جانب) واقع ہو تو وہ اپنے گھر ہی سے احرام باندھے گا۔ اسی طرح اہل مکّہ اپنے گھروں سے احرام باندھ کرتلبیہ پڑھیں گے۔ [صحيح ابن خزيمه/كِتَابُ: الْمَنَاسِكِ/حدیث: 2590]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1524، 1526، 1529، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1181، وابن الجارود فى "المنتقى"، 453، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2590، 2591، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2653، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9012، 9013، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2504، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2160»