صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1918. (177) بَابُ ذِكْرِ الْعِلَّةِ الَّتِي نَرَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحَجَرَ لَهَا
اس علت کا بیان جس کی بنا پر ہمارے خیال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حطیم کے قریبی دو ارکان کا استلام نہیں کرتے تھے
حدیث نمبر: 2726
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا ، حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، أَخْبَرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلَمْ تَرَيْ إِلَى قَوْمِكِ حِينَ بَنَوَا الْكَعْبَةَ؟ اخْتَصَرُوا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ"، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلا تَرُدَّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ:" لَوْلا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ" ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلامَ الرُّكْنَيْنِ الَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحَجَرَ، إِلا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُصَمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنی قوم کا حال نہیں دیکھا، جب انہوں نے بیت اللہ کو تعمیر کیا تو انہوں نے اسے حضرت ابراہیم عليه السلام کی بنیادوں سے کم کردیا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، میں نے عرض کیا کہ آپ اسے دوبارہ حضرت ابراہیم عليه السلام کی بنیادوں پر تعمیر کیوں نہیں کردیتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہاری قوم نئی نئی کفر سے نکل کر مسلمان نہ ہوئی ہوتی (میں اسے ضرور حضرت ابراہیم عليه السلام کی بنیادوں پر تعمیر کردیتا)“۔
راوی کہتے ہیں کہ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ بیشک یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سُنی ہوگی، اس لئے میرے خیال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حطیم کی طرف والے دونوں ارکان کا استلام صرف اس لئے نہیں کیا کیونکہ بیت اللہ شریف حضرت ابراہیم عليه السلام کی بنیادوں پرمکمّل تعمیر نہیں کیا گیا (اور یہ دونوں ارکان ان بنیادوں پرنہیں ہیں)۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: 2726]
راوی کہتے ہیں کہ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ بیشک یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سُنی ہوگی، اس لئے میرے خیال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حطیم کی طرف والے دونوں ارکان کا استلام صرف اس لئے نہیں کیا کیونکہ بیت اللہ شریف حضرت ابراہیم عليه السلام کی بنیادوں پرمکمّل تعمیر نہیں کیا گیا (اور یہ دونوں ارکان ان بنیادوں پرنہیں ہیں)۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: 2726]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 126، 1583، 1584، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1333، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1336، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2726، 2742، 3018، 3019، 3020، 3021، 3022، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3815، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1770، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2900، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1875، والترمذي فى (جامعه) برقم: 875، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2955، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9335، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24935»