صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1959. (218) بَابُ إِبَاحَةِ وَطْءِ الْمُتَمَتِّعِ النِّسَاءَ مَا بَيْنَ الْإِحْلَالِ مِنَ الْعُمْرَةِ إِلَى الْإِحْرَامِ بِالْحَجِّ، وَإِنْ كَانَ بَيْنَهُمَا قَرِيبٌ
حج تمتع کرنے والا شخص عمرے کی ادائیگی کے بعد احرام کھولنے سے لیکر حج کا احرام باندھنے کے دوران بیوی سے ہمبستری کرسکتا ہے اگرچہ عمرے کا احرام کھولنے اور دوبارہ حج کا احرام باندھنے میں چند دن کا وقفہ ہی ہو
حدیث نمبر: 2786
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ عَطَاءٌ : قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ رَابِعٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرْنَا أَنْ نَحِلَّ، فَقَالَ: " أَحِلُّوا، وَأَصِيبُوا النِّسَاءَ" ، قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: وَلَمْ يَعْزِمْ عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبُوا النِّسَاءَ، وَلَكِنَّهُ أَحَلَّهُ لَهُمْ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کی چار تاریخ کی صبح کے وقت مکّہ مکرّمہ تشریف لائے۔ پھر جب ہم مکّہ مکرّمہ پہنچے تو آپ نے ہمیں حُکم دیا کہ عمرہ کرکے احرام کھول دو۔ اور فرمایا: ”احرام کھول دو اور اپنی بیویوں سے ہمبستری کر سکتے ہو۔ “ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آپ نے صحابہ کرام پر بیویوں سے جماع کرنا لازمی قرار نہیں دیا تھا لیکن آپ نے ان کے لئے حلال قرار دیا تھا (کہ اگر وہ ضرورت محسوس کریں تو اپنی خواہش پوری کر سکتے ہیں)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: 2786]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1340، وابن الجارود فى "المنتقى"، 500، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، 2534، 2603، 2620، 2626، 2687، 2709، 2713، 2717، 2718، 2754، 2755، 2756، 2757، 2778، 2785، 2786، 2787، 2794، 2802، 2809، 2811، 2812، 2815، 2826، 2835، 2853، 2855، 2857، 2858، 2862، 2864، 2875، 2876، 2877، 2890، 2892، 2900، 2901، 2924، 2926، 2944، 2968، 2969، 3025، 3026، 3056، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 400، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942»