🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2007. ‏(‏266‏)‏ بَابُ إِبَاحَةِ النُّزُولِ بَيْنَ عَرَفَاتٍ وَجَمْعٍ لِلْحَاجَةِ تَبْدُو لِلْمَرْءِ‏.‏
عرفات اور مزدلفہ کے درمیان بوقت ضرورت ٹھہرنا جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2847
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَفَعَ مِنْ عَرَفَةَ أَرْدَفَهُ تِلْكَ الْعَشِيَّةَ، فَلَمَّا أَتَى الشِّعْبَ نَزَلَ فَبَالَ وَلَمْ يَقُلْ: إِهْرَاقَ الْمَاءِ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنْ إِدَاوَةٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، فَقُلْنَا: الصَّلاةَ، فَقَالَ:" الصَّلاةُ أَمَامَكَ"، فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمُزْدَلِفَةَ صَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ حَلُّوا رِحَالَهُمْ وَأَعَنْتُهُ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لا أَعْلَمُ أَحَدًا أَدْخَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ بَيْنَ كُرَيْبٍ وَبَيْنَ أُسَامَةَ فِي هَذَا الإِسْنَادِ، إِلا ابْنَ عُيَيْنَةَ، رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبِ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ ، وَقَدْ خَرَّجْتُ طُرُقَ هَذَا الْخَبَرِ فِي كِتَابِ الْكَبِيرِ
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپس ہوئے تو آپ نے انہیں اس شام اپنے پیچھے سوار کرلیا۔ پھر جب گھاٹی کے پاس آئے تو آپ نے سواری سے اُتر کر پیشاب کیا اور یہ نہیں کہا کہ پانی بہایا (بلکہ صریح الفاظ بولے کہ آپ نے پیشاب کیا)۔ پھر میں نے آپ کے ایک برتن سے پانی اُنڈیلا تو آپ نے ہلکا سا وضو کیا۔ ہم نے عرض کیا کہ نماز پڑھنا چاہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز آگے جاکر (مزدلفہ میں) پڑھیں گے۔ پھر جب ہم مزدلفہ پہنچے تو آپ نے مغرب کی نماز ادا کی پھر صحابہ کرام نے اپنی سواریوں سے کجاوے اتار لیے اور سواریاں کھول دیں اور آپ کی سواری کو کھولنے اور کجاوہ اُتارنے میں، میں نے آپ کی مدد کی پھر آپ نے عشاء کی نماز ادا کی۔ امام ابو بکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق صرف ابن عیینہ نے اس سند میں سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ اور جناب کریب کے درمیان سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر کیا ہے۔ جناب یحییٰ بن سعید انصاری نے اپنی سند میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا میں نے اس حدیث کے تمام طرق کتاب الکبیر میں بیان کردیے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: 2847]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 139، 181، 1666، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1280، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1465، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 64، 973، 2824، 2844، 2845، 2847، 2850، 2851، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1594، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1715، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1921، 1923، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3017، 3019، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 390، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1854»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں