صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2044. (303) بَابُ اسْتِحْبَابِ ذَبْحِ الْإِنْسَانِ وَنَحْرِ نَسِيكِهِ بِيَدِهِ، مَعَ إِبَاحَةِ دَفْعِ نَسِيكِهِ إِلَى غَيْرِهِ لِيَذْبَحَهَا أَوْ يَنْحَرَهَا.
انسان کا اپنے ہاتھ سے قربانی کا جانور ذبح یا نحر کرنا مستحب ہے اور کسی دوسرے شخص کو بھی ذبح کرنے یا نحر کرنے کے لئے دے سکتا ہے
حدیث نمبر: 2892
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ثَلاثَةً وَسِتِّينَ يَعْنِي بَدَنَةَ، فَأَعْطَى عَلِيًّا، فَنَحَرَ مَا غَبَرَ" ، وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ: وَنَحَرَ عَلِيٌّ مَا بَقِيَ
جناب جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، اُنھوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے تریسٹھ اونٹ نحر کیے، پھر آپ نے بقیہ اونٹ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیے تو انھوں نے انھیں نحر کیا۔ جناب علی بن حجر کی روایت میں ”بقى“ (جو باقی بچے) کا لفظ آیا ہے۔ (جبکہ محمد بن بشار کی روایت میں ”غبر“ (باقی مانده اونٹ) کا لفظ ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: 2892]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1340، وابن الجارود فى "المنتقى"، 500، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، 2534، 2603، 2620، 2626، 2687، 2709، 2713، 2717، 2718، 2754، 2755، 2756، 2757، 2778، 2785، 2786، 2787، 2794، 2802، 2809، 2811، 2812، 2815، 2826، 2835، 2853، 2855، 2857، 2858، 2862، 2864، 2875، 2876، 2877، 2890، 2892، 2900، 2901، 2924، 2926، 2944، 2968، 2969، 3025، 3026، 3056، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 400، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942»