صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2146. (405) بَابُ الْحَجِّ عَنِ الْمَيِّتِ بِذِكْرِ خَبَرٍ مُجْمَلٍ غَيْرِ مُفَسَّرٍ عَلَى أَصْلِنَا.
میت کی طرف سے حج کرنے کا بیان اس سلسلے میں وارد روایت ہمارے اصول کے مطابق مجمل ہے، مفصل نہیں ہے
حدیث نمبر: 3034
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ الْهُذَلِيُّ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا، وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ مُعْتَمِرِينَ، فَلَمَّا نَزَلْنَا الْبَطْحَاءَ، قُلْتُ: انْطَلِقْ إِلَى ابْنِ الْعَبَّاسِ نَتَحَدَّثْ إِلَيْهِ، قَالَ: قُلْتُ يَعْنِي لابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ وَالِدَةً لِي بِالْمِصْرِ، وَإِنِّي أَغْزُو فِي هَذِهِ الْمَغَازِي أَفَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ أُعْتِقَ، وَلَيْسَتْ مَعِي؟ قَالَ: أَفَلا أُنَبِّئُكَ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ. أَمَرْتُ امْرَأَةَ سِنَانِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ أَنْ تَسْأَلَ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أُمَّهَا مَاتَتْ، وَمَا تَحُجُّ أَمَا تُجْزِئُ عَنْ أُمِّهَا أَنْ تَحُجَّ عَنْهَا قَالَ:" نَعَمْ، لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّهَا دَيْنٌ قَضَتْهُ عَنْهَا، أَلَمْ يَكُنْ يُجْزِئُ عَنْهَا، فَلْتَحُجَّ عَنْ أُمِّهَا"
جناب موسیٰ بن سلمہ ہذلی بیان کرتے ہیں کہ میں اور سنان بن سلمہ عمرہ ادا کرنے کے لئے گئے، جب ہم وادی بطحا میں اُترے تو میں نے کہا کہ چلو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوکر اُن سے گفتگو کرتے ہیں۔ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ میری والدہ محترمہ مصر میں ہیں اور میں ادھر غزوات میں شریک رہتا ہوں کیا اگر میں ان کی طرف سے غلام آزاد کروں تو اُنھیں اس کا اجر وثواب ملے گا جبکہ وہ میرے ساتھ نہیں ہیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، کیا میں تمھیں اس سے بھی زیادہ تعجب والی بات نہ بتاؤں؟ میں نے سنان بن عبدالجہنی کی بیوی سے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا یہ مسئلہ پوچھے کہ ان کی والدہ فوت ہوگئی ہیں اور انھوں نے حج نہیں کیا تھا، اگر وہ اُن کی طرف سے حج ادا کریں تو کیا وہ انھیں کفایت کریگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ اگر اس کی والدہ کے ذمہ قرض ہوتا اور وہ ان کی طرف سے ادا کرتی تو کیا وہ اسے کفایت نہ کرتا، اُسے چاہیے کہ وہ اپنی والدہ کی طرف سے حج ادا کرے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: 3034]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 3034، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2632، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3599، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2224، 2559»
حدیث نمبر: 3035
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: قَالَ فُلانٌ الْجُهَنِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي مَاتَ، وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَمْ يَحُجَّ، أَوْ لا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ، قَالَ: " حُجَّ عَنْ أَبِيكَ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ فلاں جہنی شخص نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، میرے والد بڑھاپے میں فوت ہو گئے ہیں اور حج نہیں کر سکے، یا وہ حج کرنے کی استطاعت ہی نہیں رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے والد کی طرف سے حج کرلو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: 3035]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1513، 1852، 1853، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1334، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1317، وابن الجارود فى "المنتقى"، 546، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 3031، 3032، 3033، 3035، 3036، 3042، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3989، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2633، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1809، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2904، 2907، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8717، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2609، 2612، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1837»