اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب بيان الإيمان الذي يدخل به الجنة
باب: ایمان کا بیان جس سے جنت میں داخل ہوگا
حدیث نمبر: 7
7 صحيح حديث أبي أيوبَ الأَنصاريّ رضي الله عنه أَنَّ رجلاً قال: يا رسول الله أخبرني بعمل يُدْخِلُني الجنة، فقال القوم: مَا لَهُ مَالَه فقال رسولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَبٌ مَّا لَهُ فقال النبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تعبُدُ اللهَ لا تُشْرِكُ بهِ شيئًا وتُقيمُ الصَّلاةَ وَتُؤْتِي الزكاةَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ ذرْها قَال كأنّه كانَ عَلى رَاحِلَتِهِ
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کوئی ایسا عمل بتلائیں جو مجھے جنت میں لے جائے؟ اس پر لوگوں نے کہا کہ اسے کیا ہو گیا ہے؟ اسے کیا ہو گیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں؟ کیا ہو گیا ہے؟ اس کی ضرورت ہے، اس لیے پوچھتا ہے۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکوٰۃ دیتے رہو اور صلہ رحمی کرتے رہو۔ بس یہ اعمال تجھ کو جنت میں لے جائیں گے۔ چل اب نکیل چھوڑ دے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/کِتَابُ الْاِیْمَانِ/حدیث: 7]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 10 باب فضل صلة الرحم»
وضاحت: ذرہا: یعنی سواری کو چھوڑ دو تاکہ گھر کی راہ لے کیونکہ تمہاری کوئی مطلوبہ ضرورت باقی نہیں رہی یا شاید ایسا ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار تھے اور اس آدمی نے اس کی لگام پکڑ رکھی تھی تو جواب دینے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اب سواری کی (باگ) چھوڑ دو۔ (مرتبؒ)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 8
8 صحيح حديث أَبي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ أَعْرابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقالَ: دُلَّني عَلى عَمَلٍ إِذا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الجنة قَالَ: تَعْبُدُ اللهَ لا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقيمُ الصَّلاةَ المَكْتُوبَةَ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمفْروضَة وَتَصُومُ رَمَضانَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ أَزِيدُ عَلى هذا فَلَمّا وَلّى، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلى هَذا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی کہ آپ مجھے کوئی ایسا کام بتلائیے جس پر اگر میں ہمیشگی کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی عبادت کر، اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہرا، فرض نماز قائم کر، فرض زکوٰۃ دے اور رمضان کے روزے رکھ۔“ دیہاتی نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ان عملوں پر میں کوئی زیادتی نہیں کروں گا۔ جب وہ پیٹھ موڑ کر جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی ایسے شخص کو دیکھنا چاہے جو جنت والوں میں سے ہو تو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/کِتَابُ الْاِیْمَانِ/حدیث: 8]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في 24 كتاب الزكاة: 1 باب وجوب الزكاة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»