🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

41. باب صدق الإيمان وإِخلاصه
باب: ایمان کی سچائی اور خلوص کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 78
78 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه، قَالَ: لَمّا نَزَلَتْ (الَّذينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسوا إِيمانَهُمْ بِظُلْمٍ) شَقَّ ذَلِكَ عَلى الْمُسْلِمينَ؛ فَقالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّنا لاَ يَظْلِمُ نَفْسَهُ قَالَ: لَيْسَ ذَلِكَ، إِنَّما هُوَ الشِّرْكُ؛ أَلَمْ تَسْمَعُوا ما قَالَ لُقْمَانُ لاِبْنِهِ وَهوَ يَعِظهُ (يا بُنَيَّ لا تُشْرِكُ بِاللهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ)
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب آیت ﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ﴾ [سورة الأنعام: 82] (جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہیں کی) نازل ہوئی تو مسلمانوں پر بڑا شاق گزرا اور انہوں نے عرض کیا: ہم میں کون ایسا ہو سکتا ہے جس نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہ کی ہو گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا یہ مطلب نہیں، ظلم سے مراد آیت میں شرک ہے، کیا تم نے نہیں سنا کہ سیدنا لقمان نے اپنے بیٹے سے نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ﴿يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾ [سورة لقمان: 13] (اے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، بے شک شرک بڑا ہی ظلم ہے)۔“ [اللؤلؤ والمرجان/کِتَابُ الْاِیْمَانِ/حدیث: 78]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 1 باب قول الله تعالى (ولقد آتينا لقمان الحكمة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں