اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
63. باب إِثبات الشفاعة وإِخراج الموحدين من النار
باب: شفاعت کا ثبوت اور موحدوں کا جہنم سے نکالا جانا
حدیث نمبر: 116
116 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ ثُمَّ يَقُولُ اللهُ تَعَالَى: أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانِ، فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا قَدِ اسْوَدُّوا، فَيُلْقَونَ فِي نَهَرِ الْحَيَا أَوِ الْحَيَاةِ (شَكٌّ من أَحد رجال السَّنَد) فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي جَانِبِ السَّيْلِ، أَلَمْ تَرَأَنَّهَا تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو جائیں گے، اللہ پاک فرمائے گا: جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر (بھی) ایمان ہو، اس کو بھی دوزخ سے نکال لو۔ تب (ایسے لوگ) دوزخ سے نکال لیے جائیں گے اور وہ جل کر کوئلے کی طرح سیاہ ہو چکے ہوں گے، پھر زندگی کی نہر میں یا بارش کے پانی میں ڈالے جائیں گے۔ (یہاں راوی کو شک ہو گیا ہے کہ کون سا لفظ استعمال کیا) اس وقت وہ دانے کی طرح اگ آئیں گے، جس طرح ندی کے کنارے دانے اگ آتے ہیں، کیا تم نے نہیں دیکھا کہ دانہ زردی مائل پیچ در پیچ نکلتا ہے؟“ [اللؤلؤ والمرجان/کِتَابُ الْاِیْمَانِ/حدیث: 116]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في 2 كتاب الإيمان: 15 باب تفاضل أهل الإيمان في الأعمال»
الحكم على الحديث:
«صحیح»