🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

67. باب في قوله تعالى: (وأنذر عشيرتك الأقربين)
باب: اللہ تعالیٰ کے قول (وانذر عشیرتک الاقربین) کے بیان میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 123
123 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ (وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ) ، قَالَ: يَا مَعْشَرَ قرَيْشٍ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ، لاَ أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لاَ أُغْنِي عَنْكُمْ مَنَ اللهِ شَيْئًا يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لاَ أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا وَيَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللهِ لاَ أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللهِ شَيْئًا وَيَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَلِيني مَا شِئْتِ مِنْ مَالِي، لاَ أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللهِ شَيْئًا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ﴿وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة الشعراء: 214] اتاری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے قریش کے لوگو! (یا ایسا ہی کوئی اور کلمہ) تم لوگ اپنی اپنی جانوں کو (نیک اعمال کے بدل) خرید لو (بچا لو)، میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا (یعنی اس کی مرضی کے خلاف میں کچھ نہیں کر سکتا)۔ اے عبدِ مناف کے بیٹو! میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آنے کا۔ اے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ! میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آنے کا۔ اے صفیہ رضی اللہ عنہا (میری پھوپھی)! اللہ کے سامنے میں تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا۔ اے فاطمہ رضی اللہ عنہا (میری بیٹی)! تو چاہے میرا مال مانگ لے لیکن اللہ کے سامنے میں تیرے کچھ کام نہیں آ سکوں گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/کِتَابُ الْاِیْمَانِ/حدیث: 123]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 55 كتاب الوصايا: 11 باب هل يدخل النساء والولد في الأقارب»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 124
124 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ (وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ) وَرَهْطَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ، خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى صَعِدَ الصَّفَا فَهَتفَ: يَا صَبَاحَاهْ فَقَالُوا مَنْ هذَا فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ فَقَالَ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلاً تَخْرُجُ مِنْ سَفْحِ هذَا الْجَبَلِ أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ قَالُوا مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ كَذِبًا، قَالَ: فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ، قالَ أَبُو لَهَبٍ: تَبًّا لَكَ مَا جَمَعْتَنَا إِلاَّ لِهذَا ثُمَّ قَامَ فَنَزَلَتْ (تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ)
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب یہ آیت ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة الشعراء: 214] (آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے اور اپنے گروہ کے ان لوگوں کو ڈراؤ جو مخلصین ہیں) نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی پر چڑھ گئے اور پکارا: «يَا صَبَاحَاهْ!» ”ہائے صبح کا خطرہ!“ قریش نے کہا: یہ کون ہے؟ پھر وہاں سب آ کر جمع ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے اگر میں تمہیں بتاؤں کہ ایک لشکر اس پہاڑ کے پیچھے سے آنے والا ہے تو کیا تم مجھ کو سچا نہیں سمجھو گے؟“ انہوں نے کہا کہ ہمیں آپ سے کبھی بھی جھوٹ کا تجربہ نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں تمہیں سخت عذاب سے ڈراتا ہوں جو تمہارے سامنے آ رہا ہے۔“ یہ سن کر ابولہب بولا: تو تباہ ہو! کیا تو نے ہمیں اسی لیے جمع کیا تھا؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ لہب ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ﴾ [سورة المسد: 1] (دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے ابولہب کے اور وہ برباد ہو گیا) نازل ہوئی۔ [اللؤلؤ والمرجان/کِتَابُ الْاِیْمَانِ/حدیث: 124]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 111 سورة تبت يدا أبي لهب وتب: 1 باب حدثنا يوسف»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں