🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

72. باب قوله يقول الله لآدم: أخرج بعث النار من كل ألف تسعمائة وتسعة وتسعين
باب: اللہ تعالیٰ حضرت آدم سے ارشاد فرمائے گا ہر ھزار آدمیوں میں سے نو سو ننانوے آدمی جہنم کے لیے نکال لو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 133
133 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ اللهُ: يَا آدَمُ فَيَقُولُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ قَالَ: يَقُولُ: أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ، قَالَ: وَمَا بَعثُ النَّارِ قَالَ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ، تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ، فَذَاكَ حَينَ يَشِيبُ الصَّغِيرُ، وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا، وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلكِنَّ عَذَابَ اللهِ شَدِيدٌ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ قَالَ: أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْ يَأْجُوج وَمَأجُوجَ أَلْفًا وَمِنْكُمْ رَجُلٌ، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي في يَدِهِ إِنِّي لأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، قَالَ: فَحَمِدْنَا اللهَ وَكَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي فِي يَدِهِ إِنِّي لأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْل الجَنَّةِ، إِنَّ مَثَلَكُمْ فِي الأُمَمِ كَمَثَلِ الشَّعَرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الأَسْوَدِ، أَوِ الرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الْحِمَارِ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم! سیدنا آدم علیہ السلام کہیں گے: «لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ» ”حاضر ہوں، فرماں بردار ہوں اور ہر بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے“، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: «أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ» ”جو لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے انہیں نکال لو“، آدم علیہ السلام پوچھیں گے: جہنم میں ڈالے جانے والے لوگ کتنے ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کہ ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے، یہی وہ وقت ہو گا جب ﴿يَوْمَ تَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا﴾ [سورة المزمل: 17] ”بچے غم سے بوڑھے ہو جائیں گے“ اور ﴿وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَىٰ وَمَا هُم بِسُكَارَىٰ وَلَٰكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾ [سورة الحج: 2] ”حاملہ عورتیں اپنا حمل گرا دیں گی اور تم لوگوں کو نشہ کی حالت میں دیکھو گے حالانکہ وہ واقعی نشہ کی حالت میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب سخت ہو گا“۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ بات بہت سخت معلوم ہوئی تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر ہم میں سے وہ (خوش نصیب) شخص کون ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں خوشخبری ہو، ایک ہزار یاجوج و ماجوج کی قوم سے ہوں گے اور تم میں سے وہ ایک جنتی ہو گا،“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے امید ہے کہ تم لوگ اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہو گے،“ راوی نے بیان کیا کہ ہم نے اس پر اللہ کی حمد بیان کی اور اس کی تکبیر کہی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے امید ہے کہ آدھا حصہ اہل جنت کا تم لوگ ہو گے، تمہاری مثال دوسری امتوں کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے کسی سیاہ بیل کے جسم پر سفید بالوں کی (معمولی تعداد) ہوتی ہے، یا وہ سفید داغ جو گدھے کے آگے کے پاؤں پر ہوتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/کِتَابُ الْاِیْمَانِ/حدیث: 133]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: باب قوله عز وجل إن زلزلة الساعة شيء عظيم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں