🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

74. باب صفة الوضوء وكماله
باب: وضو کی ترکیب اور اس کے پورا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 135
135 صحيح حديث عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ دَعَا بِإِنَاءٍ فَأَفْرَغَ عَلَى كَفَّيْهِ ثَلاَثَ مِرَارٍ فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الإِنَاءِ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا، وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلاَثَ مِرَارٍ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلاَثَ مِرَارٍ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هذَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لاَ يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے (حمران سے) پانی کا برتن مانگا، (اور لے کر پہلے) اپنی ہتھیلیوں پر تین مرتبہ پانی ڈالا، پھر انہیں دھویا، اس کے بعد اپنا داہنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور (پانی لے کر) کلی کی اور ناک صاف کی، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا، اور کہنیوں تک تین بار دونوں ہاتھ دھوئے، پھر سر کا مسح کیا، پھر ٹخنوں تک تین مرتبہ دونوں پاؤں دھوئے، پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو شخص میری طرح ایسا وضو کرے، پھر دو رکعت پڑھے جس میں اپنے نفس سے کوئی بات نہ کرے، تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 135]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 24 باب الوضوء ثلاثًا ثلاثًا»
وضاحت: راوي حدیث: امیرالمومنین سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوعبداللہ اور ابو عمر تھی۔ مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ راشد ہیں۔ صحیح قول کے مطابق عام الفیل کے ۶ سال بعد پیدا ہوئے۔ آغاز اسلام میں سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ ان کی نانی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیوں سیدہ رقیہ اور سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہما سے یکے بعد دیگرے نکاح کرنے کی وجہ سے ذی النورین کے لقب سے معروف ہوئے۔ حبشہ کی طرف دو مرتبہ ہجرت فرمائی۔ بیعت رضوان آپ کے لیے ہی ہوئی تھی۔ آپ نے مسجد نبوی کے لیے جگہ خرید فرمائی۔ بئیر رومہ بھی آپ نے مسلمانوں کے لیے خریدا۔ اٹھارہ ذی الحجہ ۳۵ہجری کو جمعہ کے دن مظلومانہ طور پر شہید ہوئے۔ آپ کے دور خلافت میں مسلمانوں نے بے مثال فتوحات حاصل کیں۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں