اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
81. باب الاستطابة
باب: استنجاء کے بیان میں
حدیث نمبر: 148
148 صحيح حديث أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أَتَيْتمُ الْغَائِطَ فَلاَ تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلاَ تَسْتَدْبِرُوهَا، وَلكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: فَقَدِمْنَا الشَّأْمَ فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ بُنِيَتْ قِبَلَ الْقِبْلَةِ، فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللهَ تَعَالَى
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ تو اس وقت نہ تو قبلہ کی طرف منہ کرو اور نہ پیٹھ کرو بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف اس وقت اپنا منہ کر لیا کرو۔“ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم جب شام آئے تو یہاں کے بیت الخلا قبلہ رخ بنے ہوئے تھے (جب ہم قضائے حاجت کے لیے جاتے) تو ہم مڑ جاتے اور اللہ عز وجل سے استغفار کرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 148]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 29 باب قبلة أهل المدينة وأهل الشام والمشرق»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا خالد بن زید بن کلیب رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوایوب انصاری ہے نجار قبیلہ سے تعلق تھا۔ ہجرت کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں ہی نزول فرمایا تھا۔ بیعت عقبہ ثانیہ میں شریک تھے۔ بدر اور دیگر تمام غزوات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک رہے۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خارجیوں کے مدمقابل جنگ میں حصہ لیا۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ان کے بیٹے یزید کے ساتھ ۵۲ہجری میں قسطنطنیہ پر حملہ کیا اور یہیں پر شہید ہوئے اور قلعہ کے پہلو میں دفن ہوئے۔ یزید نے آپ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی تھی۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 149
149 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقولُ: إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ إِذَا قَعَدْتَ عَلَى حَاجَتِكَ فَلاَ تَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلاَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ لَقَدِ ارْتَقَيْتُ يَوْمًا عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَنَا، فَرَأَيْتُ رسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلاً بَيْتَ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ لوگ کہتے تھے کہ جب قضائے حاجت کے لیے بیٹھو تو نہ قبلہ کی طرف منہ کرو نہ بیت المقدس کی طرف، حالانکہ ایک دن میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے دو اینٹوں پر قضائے حاجت کے لیے بیٹھے ہیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 149]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 12 باب من تبرز على لبنتين»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 150
150 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ ارْتَقَيْتُ فَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِ حَفْصَةَ لِبَعضِ حَاجَتِي فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي حَاجَتَهُ مُسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةِ مُسْتَقْبِلَ الشَّامِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ (ایک دن میں اپنی بہن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ) سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے مکان کی چھت پر اپنی کسی ضرورت سے چڑھا، تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کرتے وقت قبلہ کی طرف پشت اور شام کی طرف منہ کیے ہوئے نظر آئے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 150]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 14 باب التبرز في البيوت»
الحكم على الحديث:
«صحیح»