اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
89. باب حكم بول الطفل الرضيع وكيفية غسله
باب: شیر خوار بچے کے پیشاب کو دھونے کا طریقہ
حدیث نمبر: 163
163 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ، فَيَدْعُو لَهُمْ، فَأُتِيَ بِصَبِيٍّ فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَتْبَعَهُ إِيَّاهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بچوں کو لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے دعا کرتے تھے، ایک مرتبہ ایک بچہ لایا گیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پر پیشاب کر دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگایا اور پیشاب کی جگہ پر اسے ڈالا، کپڑے کو دھویا نہیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 163]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 80 كتاب الدعوات: 3 باب الدعاء للصبيان بالبركة ومسح رؤوسهم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 164
164 صحيح حديث أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں اپنا چھوٹا بچہ لے کر آئی جو کھانا نہیں کھاتا تھا (یعنی شیر خوار تھا)، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گود میں بٹھا لیا، اس بچے نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا، آپ نے پانی منگا کر کپڑے پر چھڑک دیا اور اسے نہیں دھویا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 164]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 59 باب بول الصبيان»
وضاحت: شیر خوار بچہ جس نے کچھ بھی کھانا پینا نہیں سیکھا ہے اس کے پیشاب پر پانی کے چھینٹے کافی ہیں۔ مگر یہ حکم صرف مرد بچوں کے لیے ہے بچیوں کا پیشاب بہرحال دھونا ہی ہوگا۔ (راز) راوي حدیث: سیدہ ام قیس بن محصن رضی اللہ عنہا آپ سیّدناعکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں، بقول بعض آپ کا نام آمنہ تھا۔ مکہ میں اسلام قبول کیا تھا، بیعت کی اور مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ ۲۴ احادیث کی راوی ہیں۔ جن میں سے دو متفق علیہ ہیں۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»