🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

108. باب إِنما الماء من الماء
باب: پانی کا استعمال پانی نکلنے سے پہلے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 196
196 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَجَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ؛ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ، فَقَالَ: نَعَمْ؛ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ قُحِطْتَ فَعَلَيْكَ الْوُضُوءُ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری کو بلایا، وہ آئے تو ان کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید ہم نے تمہیں جلدی میں ڈال دیا۔“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی جلدی (کا کام) آ پڑے یا تمہیں انزال نہ ہو تو تم پر وضو ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 196]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 34 باب من لم ير الوضوء إلا من المخرجين»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 197
197 صحيح حديث أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ فَلَمْ يُنْزِلْ قَالَ: يَغْسِلُ مَا مَسَّ الْمَرْأَةَ مِنْهُ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جب مرد عورت سے جماع کرے اور انزال نہ ہو تو کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت سے جو کچھ اسے لگ گیا ہے اسے دھو لے، پھر وضو کرے اور نماز پڑھے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 197]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 5 كتاب الغسل: 29 باب غسل ما يصيب من فرج المرأة»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوالمنذر تھی۔ بہت بڑے قاری اور مقری تھے۔ اسلام لانے سے قبل یہود کے بہت بڑے عالم تھے۔ جب اسلام لائے تو کاتب وحی مقرر ہوئے۔ بدر وغیرہ تمام غزوات میں شریک ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی مبارک میں قرآن مجید حفظ کر لیا تھا اور فتویٰ دیا کرتے تھے۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جابیہ کے معرکے میں شامل ہوئے۔ بیت المقدس والوں سے ہونے والا صلح نامہ انہوں نے لکھا تھا۔ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے حکم سے جمع قرآن میں شریک تھے۔ مدینہ منورہ میں ہی وفات پائی۔ ۱۶۴ احادیث کے راوی ہیں۔ جن میں سے تین متفق علیہ ہیں۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 198
198 صحيح حديث عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رضي الله عنه، قَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ: أَرَأَيْتَ إِذَا جَامَعَ فَلَمْ يُمْنِ قَالَ عُثْمَانُ: يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلاَةِ وَيَغْسِلُ ذَكَرَهُ؛ قَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص صحبت کرے اور منی نہ نکلے (تو کیا کرے)؟ انہوں نے فرمایا: ”وضو کرے جس طرح نماز کے لیے وضو کرتا ہے، اور اپنے عضو کو دھو لے۔“ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (یہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 198]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 34 باب من لم ير الوضوء إلا من المخرجين»
وضاحت: یہ سب روایات ابتدائی عہد سے متعلق ہیں۔ اب صحبت کے بعد غسل فرض ہے خواہ انزال ہو یا نہ ہو۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امت کا اجماع ہے کہ جماع کرنے سے غسل واجب ہوتا ہے منی نکلے یا نہ نکلے۔ مولانا عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہی حق وصواب ہے۔ (تحفۃ الاحوذی: ج۱ ص ۱۰۰، راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں