🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

117. باب بدء الأذان
باب: اذان کی ابتداء
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 213
213 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحيَّنُونَ الصَّلاَةَ، لَيْسَ يُنَادَى لَهَا؛ فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ بُوقًا مِثْلَ بُوقِ الْيَهُودِ؛ فَقَالَ عُمَرُ رضي الله عنه: أَوَلاً تَبْعَثُونَ رَجُلاً يُنَادِي بِالصَّلاَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا بِلاَلُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلاَةِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب مسلمان (ہجرت کر کے) مدینہ پہنچے تو وقت مقرر کر کے نماز کے لیے آتے تھے، اس کے لیے اذان نہیں دی جاتی تھی۔ ایک دن اس بارے میں مشورہ ہوا، کسی نے کہا: نصاریٰ کی طرح ایک گھنٹہ لے لیا جائے اور کسی نے کہا: یہودیوں کی طرح نرسنگا (بگل) بنا لو، اس کو پھونک دیا کرو، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کسی شخص کو کیوں نہ بھیج دیا جائے جو نماز کے لیے پکار دیا کرے؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اسی رائے کو پسند فرمایا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے) فرمایا: «يَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ» بلال! اٹھ اور نماز کے لیے اذان دے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 213]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 1 باب بدء الأذان»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں