اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
122. باب إِثبات التكبير في كل خفض ورفع في الصلاة إِلا رفعه من الركوع فيقول فيه: سمع الله لمن حمده
باب: نماز میں جھکتے اور اٹھتے وقت تکبیر کہنے اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کا حکم
حدیث نمبر: 219
219 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي بِهِمْ فَيُكَبِّرُ كلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ، فَإِذَا انْصَرَفَ قَالَ: إِنِّي لأَشْبَهُكُمْ صَلاَةً بِرَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے، تو جب بھی وہ جھکتے اور جب بھی وہ اٹھتے تو تکبیر ضرور کہتے، پھر جب فارغ ہوتے تو فرماتے کہ میں نماز پڑھنے میں تم سب لوگوں سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہت رکھنے والا ہوں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 219]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 115 باب إتمام التكبير في الركوع»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 220
220 صحيح حديث أَبي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ الله لِمَنْ حَمِدَهُ حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ؛ ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلاَةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا؛ وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے، پھر جب رکوع کرتے تب بھی تکبیر کہتے تھے، پھر جب سر اٹھاتے تو «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے اور کھڑے ہی کھڑے «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ کہتے، پھر جب سجدہ کے لیے جھکتے تب بھی تکبیر کہتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تب تکبیر کہتے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام نماز میں کرتے تھے یہاں تک کہ نماز پوری کر لیتے تھے، قعدہ اولیٰ سے اٹھنے پر بھی تکبیر کہتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 220]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 117 باب التكبير إذا قام من السجود»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 221
221 صحيح حديث عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنِ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ كَبَّرَ، وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَكْعَتَيْنِ كَبَّرَ؛ فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ أَخَذَ بِيَدِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَقَالَ: لَقَدْ ذَكَّرَنِي هذَا صَلاَةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: لَقَدْ صَلَّى بِنَا صَلاَةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مطرف بن عبداللہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے اور سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، تو وہ جب بھی سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے، اسی طرح جب سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، جب دو رکعات کے بعد اٹھتے تو تکبیر کہتے، جب نماز ختم ہوئی تو سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی یا یہ کہا کہ اس شخص نے ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی طرح آج نماز پڑھائی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 221]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 116 باب إتمام التكبير في السجود»
الحكم على الحديث:
«صحیح»