🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

134. باب تسوية الصفوف وإقامتها
باب: صفوں کو برابر کرنے اور ان کو قائم رکھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 248
248 صحيح حديث أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَوُّوا صَفُوفَكمْ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفوفِ مِنْ إِقَامَةِ الصَّلاَةِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صفیں برابر رکھو کیونکہ صفوں کا برابر رکھنا نماز کے قائم کرنے میں داخل ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 248]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 74 باب إقامة الصف من تمام الصلاة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 249
249 صحيح حديث أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَقِيمُو الصُّفُوفَ فَإِنِّي أَرَاكُمْ خَلْفَ ظَهْرِي
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صفیں سیدھی کر لو، میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھ رہا ہوں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 249]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 71 باب تسوية الصفوف عند الإقامة وبعدها»
وضاحت: صفوں کو درست کرنا اس قدر اہم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد خلفائے راشدین صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی دستور رہا ہے کہ جب تک صفیں بالکل درست نہ ہو جاتیں یہ نماز شروع نہیں کیا کرتے تھے۔ عہد فاروقی میں اس مقصد کے لیے لوگ مقرر تھے جو صف بندی کراتے تھے۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 250
250 صحيح حديث النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز میں اپنی صفوں کو برابر کر لو، نہیں تو اللہ تعالیٰ تمہارے منہ الٹ دے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 250]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 71 باب تسوية الصفوف عند الإقامة وبعدها»
وضاحت: امام ابن حزم رحمہ اللہ نے ان احادیث کے ظاہر سے یہ کہا ہے کہ صفیں برابر کرنا واجب ہے اور جمہور علماء کے نزدیک سنت ہے۔ برابر رکھنے سے یہ غرض ہے کہ ایک خط مستقیم پر کھڑے ہوں۔ آگے پیچھے نہ کھڑے ہوں۔ (وحید الزمان رحمہ اللہ)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 251
251 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَفِّ الأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلاَّ أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لاَسْتَهَمُوا، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لاَسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اذان کہنے اور پہلی صف میں نماز پڑھنے سے کتنا ثواب ملتا ہے، پھر ان کے لیے قرعہ ڈالنے کے سوا اور کوئی چارہ باقی نہ رہتا، تو البتہ اس پر قرعہ اندازی ہی کرتے اور اگر لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ نماز کے لیے جلدی آنے میں کتنا ثواب ملتا ہے، تو اس کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے اور اگر لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ عشاء اور صبح کی نماز کا ثواب کتنا ملتا ہے، تو وہ ان کے لیے ضرور چوتڑوں کے بل گھسٹتے ہوئے آتے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 251]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 9 باب الاستهام في الأذان»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں